Surah Al Jasia Ayat 32 (45:32)
The Crouching · Juz 25 · Makki
وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُۙ-اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب کہا جاتا کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں توتم کہتے تھے: ہم نہیں جانتے ،قیامت کیا چیز ہے؟ ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں یقین نہیں ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب کہا جاتا بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں شک نہیں تم کہتے ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے ہمیں تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں یقین نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا قیل: اور جب کہا جاتا۔} یعنی اس وقت ان کفار سے یہ بھی کہا جائے گا ’’ جب تم سے کہا جاتا کہ بیشک اللہ تعالی کا وہ وعدہ سچا ہے جو ا س نے اپنے بندوں سے کیا کہ وہ مرنے کے بعد زندہ کئے جائیں اور اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور قیامت جس کے بارے میں انہیں خبر دی گئی کہ اللہ تعالی اسے بندوں کے حشر کے لئے قائم فرمائے گا اور اس دن انہیں حساب کے لئے جمع کرے گا اس کے انے میں کوئی شک نہیں توتم اللہ تعالی کے وعدے کو جھٹلاتے ہوئے اور اس کی قدرت کا انکار کرتے ہوئے کہتے تھے: ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہےاور کہتے تھے کہ ہمیں تو یونہی قیامت انے کاکچھ گمان سا ہوتا ہے لیکن ہمیں اس کے انے کا یقین نہیں ہے۔( تفسیر طبری الجاثیۃ تحت الایۃ: ۳۲ ۱۱ / ۲۶۸) اس سے معلوم ہوا کہ عقائد کے معاملے میں بے یقینی کی کیفیت تباہ کن ہوتی ہے۔ {و بدا لهم سیات ما عملوا: اور ان کیلئے ان کے اعمال کی برائیاں کھل گئیں ۔} اس ایت کی تفسیر یہ ہے کہ اخرت میں کفار کے سامنے ان کے دنیا میں کئے ہوئے برے اعمال انتہائی بری شکلوں میں ظاہر ہو ں گے اور ان پروہی عذاب اتر پڑے گا اور انہیں گھیر لے گا جس کی دنیا میں ہنسی اڑاتے تھے۔(روح البیان الجاثیۃ تحت الایۃ: ۳۳ ۸ / ۴۵۸ جلالین الجاثیۃ تحت الایۃ: ۳۳ ص۴۱۵ ملتقطا)