Surah Al Ahqaf Ayat 9 (46:9)
The Wind-Curved Sandhills · Juz 26 · Makki
قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْؕ-اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیاہوگا؟ میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں تو صرف صاف ڈر سنانے والا ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ میں کوئی انوکھا رسول نہیں اور میں نہیں جانتا میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا۔
Tafseer (Urdu)
{قل ما كنت بدعا من الرسل: تم فرماؤ: میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں ۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پرنت نئے اعتراضات کرنا کفار مکہ کا معمول تھاچنانچہ کبھی وہ کہتے کہ کوئی بشرکیسے رسول ہوسکتاہے رسول توکسی فرشتے کوہوناچاہیے کبھی کہتے کہ اپ توہماری طرح کھاتے پیتے ہیں ہماری طرح بازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں اپ کیسے رسول ہوسکتے ہیں کبھی کہتے: اپ کے پاس نہ مال ودولت ہے اورنہ ہی کوئی اثر ورسوخ ہے ۔ان سب باتوں کاجواب اس ایت مبارکہ میں دیاگیاکہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان سے فرما دیں :میں کوئی انوکھارسول نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی رسول اچکے ہیں وہ بھی انسان ہی تھے اوروہ بھی کھاتے پیتے تھے اور یہ چیزیں جس طرح ان کی نبوت پر اعتراض کا باعث نہ تھیں اسی طرح میری نبوت پر بھی اعتراض کا باعث نہیں ہیں تو تم ایسے فضول شبہات کی وجہ سے کیوں نبوت کا انکار کرتے ہو دوسری تفسیر یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کفار مکہ عجیب معجزات دکھانے اور عناد کی وجہ سے غیب کی خبریں دینے کا مطالبہ کیا کرتے تھے ۔اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ اپ کفار مکہ سے فرما دیں کہ میں انسانوں کی طرف پہلا رسول نہیں ہوں بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول تشریف لاچکے ہیں اور وہ سب اللہ تعالی کے بندوں کو اس کی وحدانیت اور عبادت کی طرف بلاتے تھے اور میں اس کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف بلانے والا نہیں ہوں بلکہ میں بھی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایمان لانے اور سچے دل کے ساتھ اس کی عبادت کرنے کی طرف بلاتا ہوں اور مجھے اخلاقی اچھائیوں کو پورا کرنے کے لئے بھیجاگیا ہے اور میں بھی اس چیز پر (ذاتی)قدرت نہیں رکھتا جس پر مجھ سے پہلے رسول (ذاتی) قدرت نہیں رکھتے تھے تو پھر میں تمہیں تمہارا مطلوبہ ہر معجزہ کس طرح دکھا سکتا ہوں اور تمہاری پوچھی گئی ہر غیب کی خبر کس طرح دے سکتا ہوں کیونکہ مجھ سے پہلے رسول وہی معجزات دکھایا کرتے تھے جو اللہ تعالی نے انہیں عطا فرمائے تھے اور اپنی قوم کو وہی خبریں دیا کرتے تھے جو اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی فرمائی تھیں اور جب میں نے پچھلے رسولوں سے کوئی انوکھا طریقہ اختیار نہیں کیا تو پھر تم میری نبوت کا انکار کیوں کرتے ہو( تفسیرکبیر الاحقاف تحت الایۃ : ۹ ۱۰ / ۹ خازن الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۴ / ۱۲۳ روح البیان الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۸ / ۴۶۷ ملتقطا) {و ما ادری ما یفعل بی و لا بكم: اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا} ایت کے اس حصے کے بارے میں مفسرین نے جو کلام فرمایا ہے ا س میں سے چار چیزیں یہاں درج کی جاتی ہیں (1)…یہ ایت منسوخ ہے ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں دو صورتیں ہیں پہلی صورت یہ کہ اگر اس ایت کے یہ معنی ہوں ’’ قیامت میں جو میرے اور تمہارے ساتھ کیا جائے گا وہ مجھے معلوم نہیں ۔‘‘تو یہ آیت سورہ فتح کی ایت نمبر 2 اور 5 سے منسوخ ہے جیسا کہ حضرت عکرمہ اور حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہما اس ایت کے بارے میں فرماتے ہیں : اسے سورہ فتح کی اس ایت ’’انا فتحنا لك فتحا مبینا(۱) لیغفر لك الله۔۔۔الایۃ ‘‘ نے منسوخ کر دیا ہے۔(تفسیر طبری الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۱۱ / ۲۷۶) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :ایت کریمہ ’’و ما ادری ما یفعل بی و لا بكم‘‘ کے بعد اللہ تعالی نے یہ ایات ’’لیغفر لك الله ما تقدم من ذنبك و ما تاخر‘‘ اور ’’لیدخل المؤمنین و المؤمنت۔۔۔الایۃ ‘‘ نازل فرمائیں اور اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو بتا دیا کہ وہ اپ کے ساتھ اور ایمان والوں کے ساتھ (اخرت میں ) کیا معاملہ فرمائے گا۔( در منثور الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۷ / ۴۳۵) اس کی تفصیل ا س حدیث پاک میں ہے چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :حدیبیہ سے واپسی کے وقت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر یہ ایت نازل ہوئی: ’’لیغفر لك الله ما تقدم من ذنبك و ما تاخر‘‘ (فتح:۲) ترجمہ کنزالعرفان: تاکہ اللہ تمہارے صدقے تمہارےاگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے گناہ بخش دے۔ توحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’مجھ پر ایک ایسی ایت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین پر موجود تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے سامنے اسی ایت کی تلاوت فرمائی توانہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کو مبارک ہواللہ تعالی نے اپ کے لئے تو بیان فرما دیا کہ وہ اپ کے ساتھ کیا کرے گااب (یہ معلوم نہیں کہ) ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گاتو تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر یہ ایت نازل ہوئی: ’’لیدخل المؤمنین و المؤمنت جنت تجری من تحتها الانهر خلدین فیها و یكفر عنهم سیاتهم-و كان ذلك عند الله فوزا عظیما‘‘(فتح:۵) ترجمہ کنزالعرفان: تاکہ وہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو ان باغوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور تاکہ اللہ ان کی برائیاں ان سے مٹادے اور یہ اللہ کے یہاں بڑی کامیابی ہے۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ الفتح ۵ / ۱۷۶ الحدیث: ۳۲۷۴) علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرک خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ لات و عزی کی قسم! اللہ تعالی کے نزدیک ہمارا اور محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کا یکساں حال ہے انہیں ہم پر کچھ بھی فضیلت نہیں اگر یہ قرآن ان کا اپنا بنایا ہوا نہ ہوتا تو ان کو بھیجنے والا انہیں ضرور خبر دیتا کہ وہ ان کے ساتھ کیا کرے گا ۔تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’ لیغفر لك الله ما تقدم من ذنبك و ما تاخر‘‘ (فتح:۲) ترجمہ کنزالعرفان: تاکہ اللہ تمہارے صدقے تمہارےاگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے گناہ بخش دے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضور کو مبارک ہو آپ کو تو معلوم ہوگیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا اب یہ انتظار ہے کہ اللہ تعالی ہمارے ساتھ کیا کرے گا اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’ لیدخل المؤمنین و المؤمنت جنت تجری من تحتها الانهر(فتح:۵) ترجمہ کنزالعرفان: تاکہ وہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو ان باغوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ اور یہ آیت نازل ہوئی: ’’ و بشر المؤمنین بان لهم من الله فضلا كبیرا‘‘(احزاب:۴۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور ایمان والوں کو خوشخبری دیدو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے۔ تو اللہ تعالی نے بیان فرما دیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ اور مومنین کے ساتھ کیا کرے گا۔( خازن الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۴ / ۱۲۳) دوسری صورت یہ ہے کہ آخرت کا حال تو حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اپنا بھی معلوم ہے مومنین کا بھی اورجھٹلانے والوں کا بھی اور اس ایت کے معنی یہ ہیں ’’ دنیا میں کیا کیا جائے گا یہ معلوم نہیں ‘‘ اگر ایت کے یہ معنی لئے جائیں تو بھی یہ آیت منسوخ ہے کیونکہ اللہ تعالی نے حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ بھی بتادیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’لیظهره على الدین كله‘‘( توبہ:۳۳) ترجمہکنزالعرفان: تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے۔ اورارشاد فرمایا: ’’و ما كان الله لیعذبهم و انت فیهم‘‘(انفال:۳۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ انہیں عذابدے جب تک اے حبیب! تم ان میں تشریف فرما ہو۔( خازن الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۴ / ۱۲۳ خزائن العرفان الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ص۹۲۴) یہاں اس ایت کے منسوخ ہونے کے بارے میں جو تفصیل بیان کی اسے دوسرے انداز میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ فرمانا ’’و ما ادری ما یفعل بی و لا بكم‘‘ قران مجید کا نزول مکمل ہونے سے پہلے کی بات ہے ا س لئے یہاں فی الحال جاننے کی نفی ہے۔ ائندہ اس کا علم حاصل نہ ہونے کی نفی نہیں ہے۔ چنانچہ علامہ احمدصاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :یہ ایت اسلام کے ابتدائی دور میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مومنین اور کفارکا انجام بیان کئے جانے سے پہلے نازل ہوئی ورنہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ا س وقت تک دنیا سے تشریف نہ لے گئے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے انہیں قران مجید میں اجمالی اور تفصیلی طور پر وہ سب کچھ بتا دیا جو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مومنین اور کفار کے ساتھ کیا جائے گا۔( صاوی الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۵ / ۱۹۳۳-۱۹۳۴) (2)…یہاں ذاتی طور پر جاننے کی نفی کی گئی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نفی دائمی اور ابدی ہے لیکن اس سے اللہ تعالی کے بتانے سے ہر چیز کے جاننے کی نفی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ علامہ نظام الدین حسن بن محمد نیشا پوری رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :ایت کے اس حصے میں اپنی ذات سے جاننے کی نفی ہے وحی کے ذریعے جاننے کی نفی نہیں ہے۔( غرائب القرآن ورغائب الفرقان الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۶ / ۱۱۸) صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو حضور کے ساتھ اور حضور کی امت کے ساتھ پیش آنے والے امور پر مطلع فرما دیا خواہ وہ دنیا کے ہوں یا آخرت کے اور اگر درایت بمعنی ادراک بالقیاس یعنی عقل سے جاننے کے معنی میں لیا جائے تو مضمون اور بھی زیادہ صاف ہے اور آیت کا اس کے بعد والا جملہ اس کا موید ہے۔( خزائن العرفان الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ص۹۲۴) (3)…یہاں تفصیلی درایت کی نفی ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالی ہمیشہ ہمیشہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور مومنین پر فضل و ثواب کی خلعتوں کی نوازش کرتا رہے گا اور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دشمنوں پر ذلت و عذاب کے تازیانے اور کوڑے برساتا رہے گا اور یہ سب کے سب غیر متناہی ہیں یعنی ان کی کوئی انتہاء نہیں اور غیر متناہی کی تفصیلات کا احاطہ اللہ تعالی کا علم ہی کر سکتا ہے ۔ علامہ نیشا پوری رحمۃاللہ تعالی علیہ اسی ایت کے ضمن میں فرماتے ہیں :تفصیلی درایت حاصل نہیں ہے۔( غرائب القرآن ورغائب الفرقان الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۶ / ۱۱۸) اورعلامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں ـ:ممکن ہے کہ یہاں جس چیز کی نفی کی گئی ہے وہ تفصیلی درایت ہویعنی مجھے اجمالی طور پر تو معلوم ہے لیکن میں تمام تفصیلات کے ساتھ یہ نہیں جانتا کہ دنیا اور اخرت میں میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گاکیونکہ مجھے (ذاتی طور پر )غیب کا علم حاصل نہیں ۔ اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ مزید فرماتے ہیں :اس ایت سے معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبلغ(یعنی بندوں تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دینے والا )بنا کر بھیجا گیا ہے اور کسی کو ہدایت دے دینا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ تعالی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غیبوں کا ذاتی علم اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے جبکہ انبیا ء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیاء عظام رحمۃاللہ تعالی علیہم کا غیبی خبریں دینا وحی الہام اور اللہ تعالی کی تعلیم کے واسطے سے ہے۔( روح البیان الاحقاف تحت الایۃ: ۹ ۸ / ۴۶۷-۴۶۸) (4)…یہاں درایت کی نفی ہے علم کی نہیں ۔درایت کا معنی قیاس کے ذریعے جاننا ہے یعنی خبر کی بجائے ادمی اپنی عقل سے جانتا ہواور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے اخروی احوال کو اپنے عقلی قیاس سے نہیں جانا بلکہ اللہ تعالی کے بتانے سے جانا۔ یہ معنی اوپر دوسری تاویل میں خزائن العرفان کے حوالے سے ضمنی طور پربھی موجود ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان کے ساتھ اور اپ کی امت کے ساتھ پیش آنے والے امور پر مطلع فرمادیا ہے خواہ وہ دنیا کے امور ہوں یا آخرت کے اور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم غیب کا ذاتی علم نہیں رکھتے اور جوکچھ جانتے ہیں وہ اللہ تعالی کی تعلیم سے جانتے ہیں ۔ نوٹ:اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ نے اپنی کتاب ’’انباء الحی ان کلامہ المصون تبیان لکل شیئ‘‘ (قران مجید ہر چیز کا روشن بیان ہے)میں اسی ایت کو ذکرکر کے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علم غیب کی نفی پر بطور دلیل یہ ایت پیش کرنے والوں کا رد فرمایا اور اس ایت میں مذکور نفی ’’و ما ادری:میں نہیں جانتا‘‘ کے 10جوابات ارشاد فرمائے ہیں ان کی معلومات حاصل کرنے کے لئے مذکورہ بالا کتاب کا مطالعہ فرمائیں ۔