Surah Al Ahqaf Ayat 10 (46:10)
The Wind-Curved Sandhills · Juz 26 · Makki
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: بھلا دیکھو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم اس کا انکار کرو اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکاہے تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکا تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا بیشک اللہ راہ نہیں دیتا ظالموں کو۔
Tafseer (Urdu)
{قل ارءیتم: تم فرماؤ: بھلا دیکھو۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ فرمادیں کہ اے کافرو! میری طرف جس قران کی وحی کی جاتی ہے اگر وہ حقیقت میں اللہ تعالی کی طرف سے ہو اور تمہارا حال یہ ہو کہ تم اس کا انکار کر رہے ہو جبکہ بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکاہو کہ وہ قرآن اللہ تعالی کی طرف سے ہے پھر وہ گواہ تو ایمان لے ایا اور تم نے ایمان لانے سے تکبر کیا تو مجھے بتاو کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا کیا ایسی صورت میں تم ظالم نہیں ہو (یقینا اس صورت میں تم نے ایمان نہ لا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا اور )بے شک اللہ تعالی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔( خازن الاحقاف تحت الایۃ: ۱۰ ۴ / ۱۲۴ روح البیان الاحقاف تحت الایۃ: ۱۰ ۸ / ۴۶۹ ملتقطا) بنی اسرائیل کے گواہ سے مراد کون ہے جمہور مفسرین کے نزدیک اس ایت میں بنی اسرائیل کے گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ ہیں اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ ایت مدنی ہے کیونکہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ منورہ میں ایمان لائے۔( مدارک الاحقاف تحت الایۃ: ۱۰ ص۱۱۲۵) اپ کے ایمان لانے سے متعلق حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لے ائے ہیں تووہ اپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:میں اپ سے تین ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کروں گاجن کونبی کے سواکوئی نہیں جانتا۔(1)قیامت کی پہلی علامت کیاہے (2)اہل جنت کاپہلاکھاناکون سا ہوگا (3)بچہ اپنے باپ یاماں کے کیسے مشابہ ہوتاہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کی پہلی نشانی ایک اگ ہے جولوگوں کومشرق سے مغرب تک جمع کرے گی اوراہل جنت کاپہلاکھانامچھلی کی کلیجی کاٹکڑاہوگااورجب مرد کا پانی عورت کے پانی پرغالب اجائے تووہ بچہ کی شبیہ اپنی طرف کھینچ لیتاہے اورجب عورت کاپانی مرد کے پانی پرغالب اجائے تووہ بچہ کی شبیہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔حضرت عبداللہ بن سلام نے (یہ سن کر) کہا: ’’اشھد ان لا الـہ الا اللہ و اشھد انک رسول اللہ ‘‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اپ اللہ تعالی کے رسول ہیں ۔ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بے شک یہودی بہت بہتان تراش قوم ہے اگر ان کومیرے اسلام کااپ کے ان سے پوچھنے سے پہلے علم ہوگیا تووہ مجھ پربہتان لگائیں گے ۔ پھر یہودی ائے تونبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان سے سوال کیا’’ تم میں عبداللہ کیسے ہیں انہوں نے کہا: وہ ہم میں سب سے بہتر ہیں ان کے والد بھی ہم میں سب سے بہترتھےوہ ہمارے سردارہیں اورہمارے سردار کے بیٹے ہیں ۔ارشاد فرمایا: ’’اگر عبداللہ بن سلام مسلمان ہوجائیں تو تم کیا کہو گے انہوں نے کہا: اللہ تعالی ان کواس سے اپنی پناہ میں رکھے۔ پھر حضرت عبداللہ بن سلام باہرنکلے اور کہا: ’’اشھد ان لا الـہ الا اللہ و اشھد ان محمدا رسول اللہ‘‘ تو یہود یوں نے کہا:وہ ہم میں سب سے برے ہیں سب سے برے شخص کے بیٹے ہیں اور ان کی برائیاں بیان کیں ۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مجھے اسی چیز کاخدشہ تھا۔( بخاری کتاب التفسیر باب قولہ: من کان عدوا لجبریل ۳ / ۱۶۶ الحدیث: ۴۴۸۰)