Surah Muhammad Ayat 16 (47:16)
Muhammad · Juz 26 · Madani
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِـعُ اِلَیْكَۚ-حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا- اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاکر سنتے ہیں یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو علم والوں سے کہتے ہیں : ابھی انہوں نے کیا کہا؟یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی اور وہ اپنی خواہشوں کے تابع ہوگئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان میں سے بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں یہاں تک کہ جب تمہارے پاس سے نکل کر جائیں علم والوں سے کہتے ہیں ابھی انہوں نے کیا فرمایا یہ ہیں وہ جن کے دلوں پر اللہ نے مُہر کردی اور اپنی خواہشوں کے تابع ہوئے۔
Tafseer (Urdu)
{و منهم من یستمع الیك: اور لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں جو تمہاری طرف کان لگاکر سنتے ہیں ۔} اس سے پہلی ایات میں کافر کا حال بیان کیا گیا اور اب یہاں سے منافق کا حال بیان کیا جا رہا ہےچنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں جوخطبہ وغیرہ میں حقیقت میں انتہائی بے توجہی کے ساتھ لیکن ظاہرمیں بڑے غور سے اپ کے ارشادات سنتے ہیں تاکہ لوگ انہیں مخلص مسلمان سمجھیں یہاں تک کہ جب یہ منافق لوگ اپ کے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو علمی مقام رکھنے والے صحابہ کرام جیسے حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ سے مذاق اڑانے کے طور پر کہتے ہیں : ابھی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کیا فرمایا ہے کیونکہ ہم اپ کی باتیں سمجھ نہیں سکے ان منافقوں کا طرز عمل بیان کرنے کے بعد ان کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کی پیروی کرنا ترک کر دی تو ان کے دلوں پر اللہ تعالی نے مہر لگادی اور ان کے دلوں کو مردہ کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہو اکہ وہ اخلاص کے ساتھ ایمان نہ لائےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشادات سن کر ان سے نفع نہ اٹھایا اپنی باطل خواہشوں کے تابع ہوگئے اور نفاق کو اختیار کیا۔( تفسیرکبیر محمد تحت الایۃ: ۱۶ ۱۰ / ۴۹-۵۰ خازن محمد تحت الایۃ: ۱۶ ۴ / ۱۳۷ ملتقطا)