Surah Muhammad Ayat 19 (47:19)
Muhammad · Juz 26 · Madani
فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اے حبیب!اپنے خاص غلاموں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو اور (اے لوگو!)اللہ دن کے وقت تمہارے پھرنے اور رات کو تمہارے آرام کرنے کو جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اے محبوب اپنے خاصوں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو اور اللہ جانتا ہے دن کو تمہارا پھرنا اور رات کو تمہارا آرام لینا۔
Tafseer (Urdu)
{فاعلم انه لا اله الا الله: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔} یعنی جب اپ نے جان لیا کہ قیامت قائم ہوتے وقت نصیحت حاصل کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا تو اپ اللہ تعالی کی وحدانیت کے بارے میں جو علم اور یقین رکھتے ہیں اس پر قائم رہیں کیونکہ یہ قیامت کے دن ضرور نفع دے گا۔(صاوی محمد تحت الایۃ: ۱۹ ۵ / ۱۹۵۷) {و استغفر لذنبك و للمؤمنین و المؤمنت: اور اے حبیب!اپنے خاص غلاموں اور عام مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگو۔} یہاں ایت میں اگر خطاب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کوئی گناہ ہوا تھاجس کی معافی مانگنے کا فرمایا گیا کیونکہ اپ یقینی طور پر گناہوں سے معصوم ہیں بلکہ یہ کسی دوسرے مقصد کے پیش نظر فرمایا گیا ہو گا جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم گناہوں سے معصوم ہیں اس کے باوجود اپ کو گناہ سے مغفرت طلب کرنے کا فرمایا گیا(یہ امت کی تعلیم کے لئے ہے) تاکہ اس معاملے میں امت اپ کی پیروی کرے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مغفرت طلب بھی کی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا:’’میں روزانہ سو مرتبہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں استغفار کرتا ہوں ۔( جلالین القتال تحت الایۃ: ۱۹ ص۴۲۱) علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں :یہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف ’’ذنب‘‘ کی جو نسبت کی گئی اس سے مراد اپ کے اہل بیت کی خطائیں ہیں نیزاس ایت میں امت کے لئے بھی بشارت ہے کیونکہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایا کہ مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کی بھی مغفرت طلب فرمائیں اور آپ کی شان یہ ہے کہ اپ شفاعت فرمانے والے اورمقبول الشفاعت ہیں (تو اپ جس کی مغفرت طلب فرمائیں گے وہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ضرور قبول ہو گی۔)( صاوی محمد تحت الایۃ: ۱۹ ۵ / ۱۹۵۸) نوٹ:اس مسئلے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے پارہ24 سورہ مومن ایت نمبر 55 کے تحت مذکور تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔ {و الله یعلم: اور اللہ جانتا ہے۔} یہاں ایمان والوں اور دیگر تمام لوگوں سے خطاب فرمایاگیا کہ اے لوگو!اللہ تعالی تم لوگوں کے دن کے وقت کی مشغولیات اور رات کے وقت تمہارے ارام کرنے کو جانتا ہے۔یعنی وہ تمہارے تمام احوال کو جاننے والا ہے اس سے کچھ بھی مخفی نہیں ہے تو تم اس سے ڈرو ۔( جلالین مع صاوی محمد تحت الایۃ: ۱۹ ۵ / ۱۹۵۸)