Surah Muhammad Ayat 2 (47:2)
Muhammad · Juz 26 · Madani
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْۙ-كَفَّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ اَصْلَحَ بَالَهُمْ 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جوایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا اور وہی ان کے رب کے پاس سے حق ہے تواللہ نے ان کی برائیاں مٹا دیں اور ان کی حالتوں کی اصلاح فرمائی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاورجو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور اس پر ایمان لائے جو محمد پر اتارا گیا اور وہی اُن کے رب کے پاس سے حق ہے اللہ نے ان کی بُرائیاں اُتار دیں اور اُن کی حالتیں سنوار دیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین امنوا و عملوا الصلحت: اور جوایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے۔} اس سے پہلی ایت میں کافروں کا حال بیان ہوا اور اس ایت میں ایمان والوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے اور اس قران پاک پر ایمان لائے جو میرے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر اتارا گیا اور وہی ان کے رب عزوجل کے پاس سے حق ہے تو ا س ایمان اور نیک اعمال کی برکت سے اللہ تعالی نے ان کے گناہ بخش دئیے اور دینی امور میں توفیق عطا فرما کر اور دنیا میں ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد فرما کر ان کی حالتوں کی اصلاح فرمائی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا :یہاں حالتوں کی اصلاح فرمانے سے مراد یہ ہے کہ ان کی زندگی کے دنوں میں ان کی حفاظت فرمائی۔ (خازن محمد تحت الایۃ: ۲ ۴ / ۱۳۳ مدارک محمد تحت الایۃ: ۲ ص۱۱۳۲ ملتقطا) ایت ’’و الذین امنوا و عملوا الصلحت‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے 3باتیں معلوم ہوئیں: (1)…قران مجید پر ایمان لانے کو جداگانہ ذکر کرنے سے معلوم ہوا کہ قران مجید کی شان انتہائی بلند ہے اور جن پر یہ قران نازل ہوا ہے ان کی شان بھی بہت عظیم ہے ۔ (2)… ایمان کے لئے ان تمام چیزوں کو ماننا ضروری ہے جو حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے لائے ہیں اگر کسی نے ان میں سے ایک کابھی انکار کیا تو کافر ہوجائے گا۔ (3)… ایمان سے زمانہ کفر کے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں مگر نیکیاں باقی رہتی ہیں ۔ یاد رہے کہ سیئات گناہوں کو کہتے ہیں جبکہ حقوق العباد کو ضائع کرنا دوسری چیز ہےاس لئے ایمان لانے سے زمانہ کفر کے قرض وغیرہ معاف نہیں ہوں گے بلکہ نو مسلم نے کفر کے زمانہ میں بندوں کے جو حقوق تلف کئے ہوں گے وہ اسے بہر حال ادا کرنے ہوں گے۔