Surah Muhammad Ayat 3 (47:3)
Muhammad · Juz 26 · Madani
ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو کارہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے ۔اللہ ان کے حالات لوگوں سے یونہی بیان فرماتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے اللہ لوگوں سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ذلك بان الذین كفروا اتبعوا الباطل: یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو کارہوئے۔} یعنی ہم نے جوکافروں کے اعمال ضائع کر دئیے جبکہ ایمان والے نیک بندوں کی خطاوں سے درگزرفرمایا اور ان کی حالتوں کی اصلاح فرمائی ا س کی وجہ یہ ہے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کر کے حق کے مقابلے میں باطل کو اختیار کیا اور ایمان والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب عزوجل کی طرف سے ہے اوراللہ تعالی لوگوں کے سامنے دونوں گروہوں کے حالات یونہی بیان فرماتا ہے کہ کافروں کے عمل ضائع ہیں اور ایمانداروں کی لغزشیں بھی بخش دی جائیں گی تاکہ وہ ان سے عبرت حاصل کریں اور کفار کی خصلتوں سے بچ کر مومنین کے طریقے اختیار کریں ۔( ابن کثیر محمد تحت الایۃ: ۳ ۷ / ۲۸۳ خازن محمد تحت الایۃ: ۳ ۴ / ۱۳۳-۱۳۴ ملتقطا) یاد رہے کہ یہاں ایت میں باطل سے مراد شیطان یا نفس امارہ یا برے سردار ہیں اور حق سے مراد اللہ تعالی کی کتاب اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنت ہے۔ امت کا اجماع اور مجتہد علماء کا قیاس چونکہ سنت کے ساتھ لاحق ہے ا س لئے یہ بھی حق میں داخل ہے۔یا حق سے مراد حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں کیونکہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ہر قول اور فعل شریف برحق ہے اورحق حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ایسا وابستہ ہے جیسے نو رسورج سے یا خوشبو پھول سے وابستہ ہے ۔