Surah Muhammad Ayat 30 (47:30)
Muhammad · Juz 26 · Madani
وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْؕ-وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ہم چاہتے تو تمہیں وہ منافقین دکھادیتے تو تم انہیں ان کی صورت سے پہچان لیتے اور ضرور تم انہیں گفتگو کے انداز میں پہچان لو گے اور اللہ تمہارے اعمال جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ہم چاہیں تو تمہیں ان کو دکھادیں کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو اور ضرور تم انہیں بات کے اسلوب میں پہچان لو گے اور اللہ تمہارے عمل جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لو نشآء لارینكهم: اور اگر ہم چاہتے تو تمہیں وہ منافقین دکھادیتے ۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اگر ہم چاہتے تو اپ کو دلائل اور علامات کے ذریعے ان منافقوں کی پہچان کروا دیتے یہاں تک کہ اپ انہیں ان کی صورت سے ہی پہچان لیتے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے سورہ براء ت میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو منافقوں کی پہچان کروا دی ہے ۔ اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کوئی منافق پوشیدہ نہ رہا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب کو ان کی صورتوں سے پہچانتے تھے ۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ضرور انہیں گفتگو کے انداز سے پہچان لو گے اور وہ اپنے ضمیر کا حال اپ سے چھپا نہ سکیں گے چنانچہ اس کے بعد جو منافق لب ہلاتا تھا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کے نفاق کو اس کی بات سے اور اس کے انداز کلام سے پہچان لیتے تھے ۔ ایت کے اخر میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعا لی اپنے بندوں کے تمام اعمال جانتا ہے اور ہر ایک کو اس کے لائق جزا دے گا۔( تفسیر قرطبی محمد تحت الایۃ : ۳۰ ۸ / ۱۸۱ - ۱۸۲ الجزء السادس عشر خازن محمد تحت الایۃ: ۳۰ ۴ / ۱۴۱-۱۴۲ ملتقطا) اس ایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جوبہت سی اقسام کا علم عطا فرمایا ہے ان میں صورت سے پہچاننا اور بات سے پہچاننا بھی داخل ہے۔ {و لنبلونكم: اور ضرور ہم تمہیں ازمائیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! ہم تمہیں جہادکا حکم دے کر ضرورازمائش میں ڈالیں گے یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اوراس پر صبرکرنے والوں کوظاہرفرما دیں اور تمہاری خبروں کو ازما لیں تاکہ ظاہر ہوجائے کہ طاعت و اخلاص کے دعوے میں تم میں سے کون سچا ہے ۔