Surah Qaf Ayat 12 (50:12)
The Letter Qaf · Juz 26 · Makki
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُ 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان (کفارِ مکہ) سے پہلے نوح کی قوم اور رس (نامی کنویں ) والوں نے اور ثمودنے جھٹلایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان سے پہلے جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں اور ثمود۔
Tafseer (Urdu)
{كذبت قبلهم قوم نوح: ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا۔} یہاں سے ان سابقہ قوموں کا حال اور انجام بیان کیا جا رہاہے جنہوں نے اپنے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا تاکہ ان کے حال اور وبال سے کفار مکہ نصیحت حاصل کریں اور ا س کے ساتھ ساتھ انہیں سابقہ قوموں کی ہلاکت اور عذاب سے ڈرایا بھی گیا ہے چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کفار مکہ سے پہلے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم اور رس والوں اور حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم ثمودنے اپنے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا اسی طرح حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم عاد اور فرعون نے حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے ہم قوم لوگوں نے اور حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے جنگل والوں اور تبع نامی بادشاہ کی قوم نے ان سب نے اپنے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا تو ان پر میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیالہذا اے اہل مکہ !تم بھی سابقہ قوموں جیسے عذاب سے ڈرو اور میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو نہ جھٹلاو۔ اس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے تسلی بھی ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کفار مکہ کے جھٹلانے سے غمزدہ نہ ہو ں کیونکہ اپ سے پہلے تشریف لانے والے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی ان کی قوم کے لوگ اسی طرح کیا کرتے تھے لہذا جس طرح انہوں نے صبر کیا اسی طرح اپ بھی صبر فرمائیں (نیز ہم ہمیشہ رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کی مدد فرماتے اور ان کے دشمنوں پر عذاب کرتے رہے ہیں تو اپ کی بھی مدد فرمائیں گے اور اپ کے دشمنوں کو بھی عذاب میں مبتلا کریں گے)۔( تفسیرکبیر ق تحت الایۃ: ۱۲-۱۴ ۱۰ / ۱۳۲ جلالین ق تحت الایۃ: ۱۲-۱۴ ص۴۳۰ روح البیان ق تحت الایۃ: ۱۲-۱۴ ۹ / ۱۰۹-۱۱۱ ملتقطا) نوٹ:یاد رہے کہ یہاں ایات میں جتنی قوموں کا ذکر ہوا ان سب کے تذکرے سورہ حجر سورہ فرقان اور سورہ دخان وغیرہ میں گزر چکے ہیں ۔