Surah Qaf Ayat 41 (50:41)
The Letter Qaf · Juz 26 · Makki
وَ اسْتَمِـعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کان لگا کر سنو جس دن ایک قریب کی جگہ سے پکارنے والا پکارے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گاایک پاس جگہ سے۔
Tafseer (Urdu)
{و استمـع یوم یناد المناد: اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والاپکارے گا۔} یہاں سے قیامت کے احوال بیان کئے جا رہے ہیں چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مخاطب!میں قیامت کے جو احوال تمہارے سامنے بیان فرما رہا ہوں اسے غور سے سنو جس دن ایک قریب کی جگہ سے پکارنے والا پکارے گا۔اس ایت میں قریب کی جگہ سے بیت المقدس کا صخرہ مراد ہے جو آسمان کی طرف زمین کا سب سے قریبی مقام ہے۔پکارنے والے سے مراد حضرت اسرافیل علیہ السلام ہیں اوراپ کی ندا یہ ہوگی: اے گلی ہوئی ہڈیو! بکھرے ہوئے جوڑو !ریزہ ریزہ شدہ گوشتو!پراگندہ بالو! اللہ تعالی تمہیں فیصلہ کے لئے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔( جمل مع جلالین ق تحت الایۃ: ۴۱ ۷ / ۲۷۳-۲۷۴) { یوم یسمعون الصیحة بالحق: جس دن لوگ حق کے ساتھ ایک چیخ سنیں گے۔} اس چیخ سے مراد دوسرا نفخہ ہے اور جس دن سب لوگ یہ ندا اور چیخ سنیں گے وہ قبروں سے باہر انے کادن ہو گا۔ { انا نحن نحی و نمیت: بیشک ہم زندگی دیتے ہیں اور ہم موت دیتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ بے شک ہم ہی دنیا میں زندگی اور موت دیتے ہیں اور اخرت میں جزاء و سزا کے لئے سب لوگوں کو ہماری بارگاہ میں ہی حاضر ہونا ہے ۔