Surah Az Zariyat Ayat 10 (51:10)
The Winnowing Winds · Juz 26 · Makki
قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجھوٹے اندازے لگانے والے مارے جائیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمارے جائیں دل سے تراشنے والے۔
Tafseer (Urdu)
{قتل الخرصون: جھوٹے اندازے لگانے والے مارے جائیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی چار ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جھوٹے اندازے لگانے والے مارے جائیں جو جہالت کے نشے میں اخرت کوبھولے ہوئے ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے حصول علم کے ارادے سے نہیں بلکہ مذاق اڑانے اور جھٹلانے کے طور پر پوچھتے ہیں کہ انصاف کا دن کب ائے گاکفار نے جس انداز میں سوال کیا تھا اسی کے مطابق انہیں جواب دیتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ انصاف کا دن وہ ہو گا جس دن انہیں آگ پر تپایا جائے گا اور انہیں عذاب دیا جائے گا اوران سے فرمایا جائے گاکہ اب اپنا عذاب چکھو یہ وہی عذاب ہے جس کے انے کی تم جلدی مچاتے تھے اور دنیا میں مذاق اڑاتے ہوئے میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ وہ عذاب جلدی لے ائو جس کا اپ ہمیں وعدہ دیتے ہو۔(مدارکالذاریات تحت الایۃ: ۱۰-۱۴ ص۱۱۶۷ جمل الذاریات تحت الایۃ: ۱۰-۱۴ ۷ / ۲۷۸-۲۷۹ ملتقطا) ان ایات سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مقام اور مرتبہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب کفار نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو اللہ تعالی نے خود بڑے پر جلال انداز میں کفار کو ان کی گستاخی کا جواب دیا۔ سبحان اللہ۔