Surah Az Zariyat Ayat 24 (51:24)
The Winnowing Winds · Juz 26 · Makki
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَﭥ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے حبیب!کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے محبوب کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی۔
Tafseer (Urdu)
{هل اتىك: اے محبوب!کیا تمہارے پاس آئی۔} اس ایت سے اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات بیان فرمائے تاکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات سن کر سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مبارک قلب کو تسلی حاصل ہو۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ اس لئے بیان فرمایاکہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اپ کی اولاد میں سے ہی تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بھی بعض چیزوں میں ان کے طریقے کو اختیار فرمایا اور اس واقعے کو بیان کرنے سے مقصود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی قوم کو (اللہ تعالی کے عذاب سے) ڈرانا بھی ہے۔( تفسیرکبیر الذاریات تحت الایۃ: ۲۴ ۱۰ / ۱۷۳ ملخصا) اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا اپ کے پاس ان فرشتوں کی خبر ائی جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں معزز مہمان بن کر حاضر ہوئے تھے۔ ان فرشتوں کی تعداد دس یا بارہ تھی اور ان میں حضرت جبریل امین علیہ السلام بھی شامل تھے۔( جلالین الذاریت تحت الایۃ: ۲۴ ص۴۳۳) نوٹ:یاد رہے کہ یہ واقعہ پارہ نمبر 14کے رکوع نمبر3اور 4میں بھی گزر چکا ہے۔