Surah Az Zariyat Ayat 31 (51:31)
The Winnowing Winds · Juz 27 · Makki
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariابراہیم نے فرمایا: تو اے بھیجے ہوئے فرشتو!پھر تمہارا کیا مقصد ہے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanابراہیم نے فرمایا تو اے فرشتوتم کس کام سے آئے ۔
Tafseer (Urdu)
{قال: ابراہیم نے فرمایا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی تین ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام جان گئے کہ انے والے مہمان فرشتے ہیں تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ا ن سے فرمایا: اے فرشتو! کیا تم صرف بیٹے کی بشارت دینے ائے ہو یا اس کے علاوہ تمہارا اور بھی کوئی کام ہے فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ(ان کی بستیوں کو الٹ پلٹ کرنے کے بعد) ان پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں جن پر اپ کے رب عزوجل کی طرف سے حد سے بڑھنے والوں کے لیے نشان لگائے ہوئے ہیں ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ ان پتھروں پر ایسے نشان تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ دنیا کے پتھروں میں سے نہیں ہیں اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر ایک پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھرسے ہلاک کیاجانے والا تھا۔( خازن الذریت تحت الایۃ: ۳۱-۳۴ ۴ / ۱۸۳ مدارک الذریت تحت الایۃ: ۳۱-۳۴ ص۱۱۷۰ ملتقطا)