Surah Az Zariyat Ayat 56 (51:56)
The Winnowing Winds · Juz 27 · Makki
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ 56
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور میں نے جِنّ اور آدمی اتنے ہی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں ۔
Tafseer (Urdu)
{ و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون: اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔} ارشاد فرمایا کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف دنیا طلب کرنے اور ا س طلب میں منہمک ہونے کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ انہیں اس لئے بنایا ہے تاکہ وہ میری عبادت کریں اور انہیں میری معرفت حاصل ہو ۔( صاوی الذاریات تحت الایۃ: ۵۶ ۵ / ۲۰۲۶ خازن الذریت تحت الایۃ: ۵۶ ۴ / ۱۸۵) جنوں اور انسانوں کی پیدائش کا اصل مقصد: اس ایت سے معلوم ہوا کہ انسانوں اور جنوں کو بیکار پیدا نہیں کیا گیا بلکہ ان کی پیدائش کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت کریں ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ افحسبتم انما خلقنكم عبثا و انكم الینا لا ترجعون‘‘(مومنون:۱۱۵) ترجمہ کنزالعرفان: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاو گے اور ارشاد فرمایا: ’’ تبرك الذی بیده الملك- و هو على كل شیء قدیر(ﰳ۱) الذی خلق الموت و الحیوة لیبلوكم ایكم احسن عملا-و هو العزیز الغفور‘‘( ملک:۱۲) ترجمہ کنزالعرفان: بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضے میں ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری ازمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہی عزت والا بخشش والا ہے۔ اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:اے انسان!تو میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں گا اور اگر تو ایسانہیں کرے گا تو میں تیرے دونوں ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہیں کروں گا۔( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ۳۰-باب ۴ / ۲۱۱ الحدیث: ۲۴۷۴) اللہ تعالی ہمیں اپنی پیدائش کے مقصد کو سمجھنے اور ا س مقصد کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔