Surah An Najm Ayat 1 (53:1)
The Star · Juz 27 · Makki
وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتارے کی قسم،جب وہ اترے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے۔
Tafseer (Urdu)
{و النجم: تارے کی قسم۔} اس ایت میں نجم سے کیا مراد ہے اس بارے میں مفسرین کے بہت سے قول ہیں اور ان اقوال کے اعتبار سے ایت کے معنی بھی مختلف ہیں ۔ پہلا قول:اس سے مراد ’’ثریا ‘‘ ہے اس صورت میں ایت کے معنی یہ ہوں گے کہ ثریا تارے کی قسم! جب وہ فجر کے وقت غروب ہو۔یاد رہے کہ اگرچہ ثریا کئی تارے ہیں لیکن ان پر نجم کا اطلاق عرب والوں کی عادت ہے ۔ دوسرا قول:نجم سے نجوم کی جنس یعنی تمام تارے مراد ہیں ۔اس صورت میں ایت کے معنی یہ ہوں گے کہ اسمان کے تمام تاروں کی قسم!جب وہ غروب ہوں ۔ تیسرا قول: اس سے وہ نباتات مراد ہیں جو تنا نہیں رکھتیں بلکہ زمین پر پھیلتی ہیں ۔ اس صورت میں ایت کے معنی یہ ہوں گے کہ زمین پر پھیلے ہوئے بیل بوٹوں کی قسم! جب وہ جنبش کریں ۔ چوتھا قول: نجم سے مراد قرآن پاک ہے۔اس صورت میں ایت کے معنی یہ ہوں گے کہ قران کی قسم !جب وہ رفتہ رفتہ نازل ہو۔ پانچواں قول: نجم سے مراد تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ذات مبارکہ ہےاس صورت میں ایت کے معنی یہ ہوں گے کہ (اس پیارے چمکتے) تارے محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی قسم !جب وہ معراج کی رات اسمانوں سے اترے۔( خازن النجم تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۱۹۰ قرطبی النجم تحت الایۃ: ۱ ۹ / ۶۲ الجزء السابع عشر ملتقطا)