Surah An Najm Ayat 2 (53:2)
The Star · Juz 27 · Makki
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰى 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتمہارے صاحب نہ بہکے اورنہ ٹیڑھا راستہ چلے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔
Tafseer (Urdu)
{ ما ضل صاحبكم: تمہارے صاحب نہ بہکے۔} اس ایت میں ’’صاحب‘‘ سے مراد نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں اور ’’نہ بہکنے‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کبھی حق اور ہدایت کے راستے سے عدول نہیں کیا اور ہمیشہ اپنے رب عزوجل کی توحید پر اور عبادت کرنے میں رہے آپ کے دامن عصمت پر کبھی کسی مکروہ کام کی گرد نہ آئی اور’’ ٹیڑھا راستہ نہ چلنے‘‘ سے مرادیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیشہ رشد و ہدایت کی اعلی منزل پرفائزرہے فاسد عقائد کا شائبہ بھی کبھی آپ کی مبارک زندگی تک نہ پہنچ سکا۔( ابو سعود النجم تحت الایۃ: ۲ ۵ / ۶۴۱) صفی اور حبیب میں فرق: یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے صفی حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں قران پاک میں ارشاد فرمایا: ’’ و عصى ادم ربه فغوى‘‘( طہ:۱۲۱) ترجمہ کنزالعرفان: اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا۔ اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان میں ارشاد فرمایا: ’’ ما ضل صاحبكم و ما غوى‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: تمہارے صاحب نہ بہکے اورنہ ٹیڑھا راستہ چلے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مقام حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے بلند ہے۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نام اقدس کے ساتھ لفظ ’’صاحب‘‘ ملانے کا شرعی حکم: یہاں ایک شرعی مسئلہ یاد رہے کہ اعلی حضرت امام احمد رضاخان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر اطلاق صاحب خود قرآن عظیم میں وارد ’’و النجم اذا هوى(۱)ما ضل صاحبكم و ما غوى‘‘ مگر نام اقدس کے ساتھ اس طورپر لفظ ’’صاحب‘‘ کا ملانا (جیسے محمد صاحب کہنا) یہ آریوں اور پادریوں کا شعار ہے وہ اسے معروف تعظیم میں لاتے ہیں جو زید وعمر کے لئے رائج ہے کہ شیخ صاحب مرزاصاحب پادری صاحب پنڈت صاحب لہذا اس سے احتراز چاہئے ہاں یوں کہا جائے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے صاحب ہیں آقا ہیں مالک ہیں مولی ہیں ۔( فتاوی رضویہ کتاب السیر ۱۴ / ۶۱۴)