Surah An Najm Ayat 24 (53:24)
The Star · Juz 27 · Makki
اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا انسان کو ہر وہ چیزحاصل ہے جس کی اس نے تمنا کی؟.
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا آدمی کو مل جائے گا جو کچھ وہ خیال باندھے۔
Tafseer (Urdu)
{ ام للانسان ما تمنى: کیا انسان کو ہر وہ چیزحاصل ہے جس کی اس نے تمنا کی} یہاں انسان سے مراد مشرک ہے اور اس کی تمنا سے مراد بتوں کی شفاعت ہے اور ایت کا معنی یہ ہے کہ کافر بتوں کے ساتھ جو جھوٹی امیدیں وابستہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کی شفاعت کریں گے اوران کے کام آئیں گےیہ امیدیں باطل ہیں ۔( خازن النجم تحت الایۃ: ۲۴ ۴ / ۱۹۶ ملخصا) { فلله الاخرة و الاولى: تو آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ ہی ہے۔} یعنی اللہ تعالی دنیا اوراخرت میں اسے ہی کچھ عطا فرماتا ہے جس نے اللہ تعالی کی ہدایت کی پیروی کی ہو اور اپنی خواہشات کو چھوڑ دیا ہو کیونکہ اللہ تعالی دنیا اور اخرت کا مالک ہے۔( صاوی النجم تحت الایۃ: ۲۵ ۶ / ۲۰۵۱) اس ایت کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کافر اپنے من پسند معبودوں کی عبادت کر رہے ہیں (یہ جان لیں کہ) آخرت اور دنیا سب کا مالک اللہ تعالی ہی ہےوہ کافر کو ا س کے کفر کی سزا چاہے دنیا میں دے یا اخرت تک اسے مہلت دیدے یہ ا س کی مرضی ہے۔( خازن النجم تحت الایۃ: ۲۵ ۴ / ۱۹۶)