Surah An Najm Ayat 30 (53:30)
The Star · Juz 27 · Makki
ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖۙ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰىٛ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ ان کے علم کی انتہا ہے ۔بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے ہدایت پائی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے بے شک تمہارارب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی۔
Tafseer (Urdu)
{ ذلك مبلغهم من العلم: یہ ان کے علم کی انتہاء ہے۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ کفار اس قدر کم عقل اور کم علم ہیں کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دے دی ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ان کے علم کی انتہا و ہم اورگمان ہیں جو انہوں نے باند ھ رکھے ہیں کہ (معاذاللہ) فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں وہ ان کی شفاعت کریں گے اور اس باطل وہم پر بھروسہ کرکے انہوں نے ایمان اور قران کی پرواہ نہ کی۔( خازن النجم تحت الایۃ: ۳۰ ۴ / ۱۹۶) اسی طرح ایک اور مقام پر کفار کے علم کی حد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ یعلمون ظاهرا من الحیوة الدنیا -و هم عن الاخرة هم غفلون‘‘(روم:۷) ترجمہ کنزالعرفان: آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بالکل غافل ہیں ۔