Surah Al Qamar Ayat 41 (54:41)
The Moon · Juz 27 · Makki
وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک فرعونیوں کے پاس ڈر سنانے والے (رسول) آئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک فرعون والوں کے پاس رسول آئے۔
Tafseer (Urdu)
{ و لقد جآء: اور بیشک آئے۔} یہاں سے فرعون اور ا س کی قوم کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک فرعونیوں کے پاس اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرانے والے رسول حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما الصلوۃ والسلام آئے تو فرعونی ان پر ایمان نہ لائے اورانہوں نے ہماری ان سب نشانیوں کو جھٹلادیا جو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو دی گئیں تھیں تو ہم نے اس جھٹلانے کی وجہ سے ان پر عذاب کے ساتھ ایسی گرفت کی جیسی ایک عزت والے عظیم قدرت والے کی گرفت ہوتی ہے کہ قدرت والے کی پکڑ سے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔( روح البیان القمر تحت الایۃ: ۴۱-۴۲ ۹ / ۲۸۱-۲۸۲ ملخصا) { فاخذنهم اخذ عزیز مقتدر: تو ہم نے ان پرایسی گرفت کی جیسی ایک عزت والے عظیم قدرت والے کی گرفت کی شان ہوتی ہے۔} سابقہ امتوں نے جب اللہتعالی کے ساتھ شرک کر کے اس کے رسول کو جھٹلا کر اور اللہ تعالی کی نافرمانیوں میں مصروف رہ کر اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اللہ تعالی کی طرف سے عذاب سے ڈرانے کے فرمان انے اور مہلت ملنے کے باوجود اپنی حالت کو نہ سدھارا تو اللہ تعالی نے ان کی بہت سخت گرفت فرمائی اورسابقہ امتوں کی تباہی و بربادی کے واقعات سنانے سے مقصود اس امت کے لوگوں کو اس بات سے ڈرانا ہے کہ اگر انہوں نے بھی ان جیسے اعمال اختیار کئے اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کو پس پشت ڈالا تو ان کی بھی بڑی سخت گرفت ہو سکتی ہے ۔جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہتعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و كذلك اخذ ربك اذا اخذ القرى و هی ظالمة-ان اخذه الیم شدید‘‘(ہود:۱۰۲) ترجمہ کنزالعرفان: اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’ان فی ذلك لایة لمن خاف عذاب الاخرة-ذلك یوم مجموع-له الناس و ذلك یوم مشهود‘‘(ہود:۱۰۳) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک اس میں اس کیلئے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے۔ وہ ایسا دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن ایسا ہے جس میں ساری مخلوق موجود ہوگی۔ اور حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’بے شک اللہ تعالی ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور جب اس کی پکڑ فرما لیتا ہے تو پھر اسے مہلت نہیں دیتا۔پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی : ’’ و كذلك اخذ ربك اذا اخذ القرى و هی ظالمة-ان اخذه الیم شدید‘‘(ہود:۱۰۲) ترجمہ کنزالعرفان:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے۔( بخاری کتاب التفسیر باب وکذلک اخذ ربک ...الخ ۳ / ۲۴۷ الحدیث: ۴۶۸۶) لہذا اس امت کے ہر ایک فرد کو ان ایات میں غور کرنا چاہئے اور ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی سے بچے تاکہ اللہ تعالی کی گرفت سے محفوظ رہے۔