Surah Al Qamar Ayat 48 (54:48)
The Moon · Juz 27 · Makki
یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْؕ-ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجس دن وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے ( فرمایا جائے گا)، دوزخ کا چھونا چکھو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجس دن آگ میں اپنے مونہوں پر گھسیٹے جائیں گے اور فرمایا جائے گا چکھو دوزخ کی آنچ۔
Tafseer (Urdu)
{یوم یسحبون فی النار على وجوههم: جس دن وہ آگ میں اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے۔} اس ایت مبارکہ میں کفار کو جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جانے کا ذکر ہے اور حدیث پاک میں بعض ایسے مسلمانوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہیں منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہو گااس کو بلایا جائے گا اور اسے ا س کی نعمتیں دکھائی جائیں گیجب وہ ان نعمتوں کو پہچان لے گا تو (اللہ تعالی) ارشاد فرمائے گا’’تم نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کام کیاوہ عرض کرے گا:میں نے تیری راہ میں جہاد کیا حتی کہ شہید ہو گیا۔اللہ تعالی فرمائے گا:تو جھوٹ بولتا ہے بلکہ تو نے اس لئے جہاد کیا تھا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے لہذا وہ تجھے کہہ دیا گیا۔پھر اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا حتی کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔پھر ایک ایسے شخص کو بلایا جائے گا جس نے علم حاصل کیالوگوں کو تعلیم دی اور قران پڑھااسے اس کی نعمتیں دکھائی جائیں گیجب وہ ان نعمتوں کو پہچان لے گا تو (اللہ تعالی)اس سے ارشاد فرمائے گا’’تم نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کام کیاوہ عرض کرے گا:میں نے علم حاصل کیا اور اس علم کو سکھایا اور تیرے لئے قران پڑھا۔ اللہ تعالی فرمائے گا’’تو جھوٹ بولتا ہےتم نے ا س لئے علم حاصل کیا تاکہ تجھے عالم کہا جائے تم نے قران اس لئے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائےسو تمہیں (عالم اور قاری) کہہ دیا گیا۔پھر اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔پھر ایک ایسے شخص کو بلایا جائے گا جس پر اللہ تعالی نے وسعت کی اورا سے ہر قسم کا مال عطا فرمایااسے بھی اس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی اور جب وہ ان نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالی فرمائے گا’’تم نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کام کیاوہ عرض کرے گا:میں نے ہر اس راستے میں مال خرچ کیا جس میں مال خرچ کرنا تجھے پسند ہے۔اللہ تعالی ارشاد فرمائے گا’’تو جھوٹ بولتا ہےتم نے یہ کام اس لئے کئے تاکہ تجھے سخی کہا جائے لہذا وہ تمہیں کہہ دیا گیا پھر اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا حتی کہ اسے بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔( مسلم کتاب الامارۃ باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار ص۱۰۵۵ الحدیث: ۱۵۲(۱۹۰۵))