Surah Ar Rahman Ayat 14 (55:14)
The Beneficent · Juz 27 · Makki
خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس نے انسان کو ٹھیکری جیسی بجنے والی سوکھی مٹی سے پیدا کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس نے آدمی کو بنا یا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری۔
Tafseer (Urdu)
{خلق الانسان من صلصال كالفخار: اس نے انسان کو ٹھیکری کی طرح بجنے والی سوکھی مٹی سے پیدا کیا۔} یہاں انسان سے مراد حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور اس ایت میں اللہ تعالی نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کی کیفیت کا ایک انداز بیان فرمایاہے قران پاک میں دیگر مقامات پراپ علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کی کیفیت کے اور انداز بھی بیان فرمائے گئے ہیں چنانچہ ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’هو الذی خلقكم من تراب‘‘(مومن:۶۷) ترجمہ کنزالعرفان: وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’و لقد خلقنا الانسان من سللة من طین‘‘(مومنون:۱۲) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک ہم نے انسان کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا۔ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’انا خلقنهم من طین لازب‘‘(صافات:۱۱) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ہم نے ا نہیں چپکنے والی مٹی سے بنایا۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ و لقد خلقنا الانسان من صلصال من حما مسنون‘‘(حجر:۲۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک ہم نے انسان کوخشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو ایسے سیاہ گارے کی تھی جس سے بو اتی تھی۔ ان سب ایات کا معنی ایک ہی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش سے پہلے ہر قسم کی مٹی جمع فرمائی گئی پھر اسے پانی سے گوندھا گیا تو وہ مٹی ایسا سیاہ گارہ بن گئی جس سے بو اتی تھی اس سے اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کا جسم مبارک بنایا اورجب وہ مٹی خشک ہو گئی تو ہوا گزرنے کی وجہ سے ٹھیکری کی طرح بجنے لگی۔