Surah Ar Rahman Ayat 43 (55:43)
The Beneficent · Juz 27 · Makki
هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَﭥ 43
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ وہ جہنم ہے جسے مجرم جھٹلاتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{هذه جهنم: یہ وہ جہنم ہے۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے تھے وہ ان سے دور نہیں بلکہ ان کے قریب ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب کفار جہنم کے قریب ہوں گے تو اس وقت جہنم کے خازن ان سے کہیں گے کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم دنیا میں جھٹلاتے تھے۔ (تفسیرکبیر الرحمن تحت الایۃ: ۴۳ ۱۰ / ۳۶۸ تفسیر سمرقندی الرحمن تحت الایۃ: ۴۳ ۳ / ۳۰۹ ملتقطا) {یطوفون: جہنمی چکر لگائیں گے۔} اس ایت میں جہنمیوں کا حال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ جہنمی جہنم اور اس کے انتہائی کھولتے ہوئے پانی میں چکر لگائیں گے۔اس کی ایک صورت یہ ہو گی کہ جب وہ جہنم کی آگ سے جل بھن کر فریاد کریں گے تو انہیں اس جگہ لے جایا جائے گا جہاں کھولتے ہوئے پانی کا چشمہ ہے وہاں انہیں جلتا اورکھولتا ہواپانی پلایا جائے گا اور جب اس عذاب پر فریاد کریں گے تو انہیں اس جگہ لے جایا جائے گا جہاں اگ کا عذاب ہے۔دوسری صورت یہ ہو گی کہ جہنمیوں پر بھوک کا عذاب مسلط کیا جائے گا جب وہ کھانے کے لئے چیخیں گے تو انہیں تھوہڑ کھلایا جائے گااور وہ ان کے حلق میں چبھ جائے گا تب پانی کے لئے شور مچائیں گے تو پھر انہیں وہاں لے جایا جائے گا جہاں کھولتے پانی کا چشمہ ہے۔جب وہ پانی اپنے چہرے کے قریب کریں گے تو ان کے چہرے کا گوشت گل کر اس میں گر پڑے گا پھر اسے پئیں گے تو وہ ان کے پیٹوں میں جوش مارے گا اور ان میں موجود ہر چیز نکال دے گا۔پھر ان پر بھوک مسلط کی جائے گی اور وہ اسی طرح جہنم کے ایک طبقے سے دوسرے طبقے میں چکر لگائیں گے۔( خازن الرحمن تحت الایۃ: ۴۴ ۴ / ۲۱۳ جلالین الرحمن تحت الایۃ: ۴۴ ص۴۴۵ تفسیر سمرقندی الرحمن تحت الایۃ: ۴۴ ۳ / ۳۰۹ ملتقطا) {فبای الآء ربكما تكذبن: توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!اللہ تعالی کا اپنی نافرمانی کے اس انجام سے دنیا میں ہی آگاہ فرمادینا بھی اس کی نعمت ہے توتم دونوں اپنے رب عزوجل کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے