Surah Ar Rahman Ayat 7 (55:7)
The Beneficent · Juz 27 · Makki
وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور آسمان کو اللہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور آسمان کو اللہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی۔
Tafseer (Urdu)
{و السمآء رفعها: اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا۔} اللہ تعالی نے اسمان کو محل اور رتبے کے اعتبار سے بلند پیدا فرمایا ہے۔ محل کے اعتبار سے بلندی تو ظاہر ہے کہ اسمان زمین سے اونچا ہے جبکہ رتبے کے اعتبار سے اسمان کی بلندی یہ ہے کہ وہ فرشتوں کا مسکن ہے اور یہیں سے اللہ تعالی کے احکام صادر ہوتے ہیں ۔ (ابو سعود الرحمن تحت الایۃ: ۷ ۵ / ۶۶۱ ملخصا) {و وضع المیزان: اور ترازو رکھی۔} ایک قول یہ ہے کہ یہاں میزان سے مراد عدل کرنا ہےاس صورت میں ایت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے (مخلوق کے درمیان تمام معاملات میں ) عدل کرنے کا حکم دیا ہے ۔اور ایک قول یہ ہے کہ میزان سے مراد وہ تمام الات ہیں جن سے اشیاء کا وزن کیا جائے اور ان کی مقداریں معلوم ہوسکیں جیسے ترازو اشیاء ناپنے کے الات اور پیمانے وغیرہ۔اس صورت میں ایت کے اس حصے اور اس کے بعد والی ایت کامعنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے زمین پر اشیاء ناپنے اور تولنے کے الات پیدا فرمائے اور اپنے بندوں پر لین دین کے معاملات میں عدل قائم رکھنے اور برابر ی کرنے کے احکام نافذ فرمائے تاکہ وہ ناپ تول میں نا انصافی نہ کریں اور کسی کی حق تلفی نہ ہو۔( خازن الرحمن تحت الایۃ: ۷-۸ ۴ / ۲۰۹ مدارک الرحمن تحت الایۃ: ۷-۸ ص۱۱۹۲ ملتقطا) ناپنے تولنے کے الات کی اہمیت: اللہ تعالی کی جس نعمت کا بیان اس ایت میں ہوا ا س کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے با اسانی لگا یاجاسکتا ہے کہ لوگ اپنے ساتھ غبن اور دھوکہ دہی پسند نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی اس بات پر راضی ہوتا ہے کہ دوسرا شخص کسی چیز میں اس پر غالب ا جائے چاہے وہ چیز معمولی سی ہی کیوں نہ ہو لہذا اگر ناپ تول کے معاملات میں عدل و انصاف اور برابری نہ ہو تو معاشرے میں جو جھگڑے اور فسادات برپا ہوں گے اور اپس میں جو بغض و عناد پیدا ہوگا وہ کسی عقلمند سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ اسی ایت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’اے انسان !تو دوسروں کے ساتھ اسی طرح انصاف کر جس طرح تجھے پسند ہے کہ تیرے ساتھ انصاف کیا جائے اور تو دوسروں کو اسی طرح پورا پورا ناپ تول کر دے جیسے تجھے پورا پورا ناپ تول کر لینا پسند ہے کیونکہ عدل و انصاف ہی سے لوگوں کے حالات درست رہ سکتے ہیں ۔( تفسیر طبری الرحمن تحت الایۃ: ۸ ۱۱ / ۵۷۶)