Surah Al Waqiah Ayat 17 (56:17)
The Inevitable · Juz 27 · Makki
یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان کے اردگردہمیشہ رہنے والے لڑکے پھریں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان کے گرد لیے پھریں گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے۔
Tafseer (Urdu)
{ یطوف علیهم: ان پر دورچلائیں گے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی چار ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حوروں کی طرح اہل جنت کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے پیدا کئے ہیں جو نہ کبھی مریں گےنہ بوڑھے ہوں گے اور نہ ہی ان میں کوئی (جسمانی) تبدیلی ائے گییہ ہمیشہ رہنے والے لڑکے اللہ تعالی کی بارگاہ کے مقرب بندوں پر خدمت کے اداب کے ساتھ کوزوں صراحیوں اور آنکھوں کے سامنے بہنے والی پاک شراب کے جام کے دور چلائیں گےوہ شراب ایسی ہے کہ اسے پینے سے نہ انہیں سردرد ہو گااور نہ ان کے ہوش میں کوئی فرق آئے گا (جبکہ دنیا کی شراب میں یہ وصف نہیں کیونکہ اسے پینے سے حواس بگڑجاتے ہیں اور بندے کے اوسان میں فتور جاتا ہے )اور (شراب پیش کرنے کے ساتھ ساتھ) خدمتگار لڑکے وہ تمام پھل میوے اہل جنت کے پاس لائیں گے جووہ پسند کریں گے اوران پرندوں کا گوشت لائیں گے جن کی وہ تمنا کریں گے۔( خازن الواقعۃ تحت الایۃ: ۱۷-۲۱ ۴ / ۲۱۷-۲۱۸ مدارک الواقعۃ تحت الایۃ: ۱۷-۲۱ ص۱۱۹۹ ملتقطا) اہل جنت کی خصوصی خدمت: اہل جنت پر کئے گئے ان انعامات کو ذکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و امددنهم بفاكهة و لحم مما یشتهون(۲۲)یتنازعون فیها كاسا لا لغو فیها و لا تاثیم(۲۳)و یطوف علیهم غلمان لهم كانهم لؤلؤ مكنون‘‘(طور:۲۲-۲۴) ترجمہ کنزالعرفان: اور پھلوں میووں اور گوشت جو وہچاہیں گے ان کے ساتھ ہم ان کی مدد کرتے رہیں گے۔ جنتی لوگ جنت میں ایسے جام ایک دوسرے سے لیں گے جس میں نہ کوئی بیہودگی ہوگی اورنہ گناہ کی کوئی بات۔اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں گے گویا وہ چھپاکر رکھے ہوئے موتی ہیں ۔ یاد رہے کہ خدمت گار لڑکوں کا اہل جنت کو پھل اور گوشت پیش کرناان کی خصوصی خدمت کے طور پر ہو گا ورنہ جنتی درختوں پر لگے ہوئے پھل ان کے اتنے قریب ہوں گے کہ وہ کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حال میں اسے پکڑ سکیں گے اور جس پرندے کی تمنا کریں گے وہ بھنا ہوا ان کے سامنے حاضر ہو جائے گا۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و جنا الجنتین دان‘‘(رحمن:۵۴) ترجمہ کنزالعرفان: اور دونوں جنتوں کے پھل جھکے ہوئے ہوں گے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’ قطوفها دانیة ‘‘(حاقہ:۲۳) ترجمہ کنزالعرفان: اس کے پھل قریب ہوں گے ۔ اورحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اگر جنتی کو پرندوں کا گوشت کھانے کی خواہش ہوگی تو اس کی مرضی کے مطابق پرندہ اڑتا ہوا سامنے آ جائے گا اورایک قول یہ ہے کہ رکابی میں (بھنا ہوا) آکر سامنے پیش ہوگااس میں سے جتنا چاہے گا جنتی کھائے گا پھر وہ اڑ جائے گا۔( خازن الواقعۃ تحت الایۃ: ۲۱ ۴ / ۲۱۸) جنتی پرندوں سے متعلق3احادیث: ایت نمبر21 میں اہل جنت کے لئے پرندوں کے گوشت کا ذکر کیا گیا اس مناسبت سے ان پرندوں کے بارے میں 3 احادیث ملاحظہ ہوں۔ (1)…حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’بے شک جنت کا پرندہ بختی اونٹ کی طرح ہو گا اور وہ جنت کے درختوں میں چرے گا۔(یہ سن کر) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بے شک وہ پرندہ تو بہت اچھا اور عمدہ ہو گا۔اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اسے کھانے والا اس سے زیادہ عمدہ اور اعلی ہو گا اور میں یہ امید رکھتا ہوں کہ تم بھی اسے کھائوگے ۔( مسند امام احمد مسند المکثرین من الصحابۃ مسند انس بن مالک ۴ / ۴۴۱ الحدیث: ۱۳۳۱۰) (2)…حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’بے شک تم جنت میں اڑتے ہوئے پرندے کودیکھو اور تمہارے دل میں اسے کھانے کی خواہش پیدا ہو تو وہ اسی وقت بھونا ہوا تمہارے سامنے پیش ہو جائے گا۔( رسائل ابن ابی الدنیا صفۃ الجنۃ ۶ / ۳۴۲ الحدیث: ۱۰۳) (3)…حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’بے شک جنت میں جب کوئی ادمی پرندے کا گوشت کھانے کی خواہش کرے گا تو بختی اونٹ کی طرح(بڑا) پرندہ اجائے گا یہاں تک کہ اس کے دستر خوان پرایسے (بھن کر) پیش ہو جائے گاکہ اسے کوئی دھواں لگا ہوا ہوگا اور نہ ہی کسی اگ نے اسے چھواہو گاوہ ادمی اس سے پیٹ بھر کر کھائے گاپھر وہ پرندہ اڑ جائے گا۔( رسائل ابن ابی الدنیا صفۃ الجنۃ ۶ / ۳۴۶ الحدیث: ۱۲۳)