Surah Al Waqiah Ayat 78 (56:78)
The Inevitable · Juz 27 · Makki
فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ 78
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپوشیدہ کتاب میں (ہے)۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمحفوظ نَوِشْتَہ میں ۔
Tafseer (Urdu)
{لا یمسه الا المطهرون: اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں ۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس محفوظ اور پوشیدہ کتاب کو فرشتے ہی چھوتے ہیں جو کہ شرک گناہ اور ناپاک ہونے سے پاک ہیں ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ قران پاک کو شرک سے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں ۔تیسری تفسیر یہ ہے کہ قران پاک کو وہ لوگ ہاتھ لگائیں جو با وضو ہوں اور ان پر غسل فرض نہ ہو۔( خازن الواقعۃ تحت الایۃ: ۷۹ ۴ / ۲۲۳) حدیث شریف میں بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےرسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’قران پاک کو وہی ہاتھ لگائے جو پاک ہو۔(معجم صغیر باب الیاء من اسمہ: یحیی ص ۱۳۹ الجزء الثانی) قران پاک چھونے سے متعلق 7احکام: یہاں ایت کی مناسبت سے قران مجید چھونے سے متعلق7احکام ملاحظہ ہوں (1)…قران عظیم کو چھونے کے لئے وضو کرنا فرض ہے۔( نور الایضاح کتاب الطہارۃ فصل فی اوصاف الوضو ء ص ۵۹) (2)…جس کا وضو نہ ہو اسے قران مجید یا اس کی کسی ایت کا چھونا حرام ہے البتہ چھوئے بغیر زبانی یادیکھ کر کوئی ایت پڑھے تواس میں کوئی حرج نہیں ۔ (3)…جس کو نہانے کی ضرورت ہو( یعنی جس پر غسل فرض ہو) اسے قران مجید چھونا اگرچہ اس کا سادہ حاشیہ یا جلد یا چولی چھوئے یا چھوئے بغیردیکھ کر یا زبانی پڑھنا یا کسی ایت کا لکھنا یا ایت کا تعویذ لکھنا یا قران پاک کی ایات سے لکھا تعویذ چھونا یا قران پاک کی ایات والی انگوٹھی جیسے حروف مقطعات کی انگوٹھی چھونا یا پہننا حرام ہے۔ (4)…اگر قران عظیم جزدان میں ہو تو جزدان پر ہاتھ لگانے میں حرج نہیں یوہیں رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابع ہو نہ قران مجید کا تو جائز ہے۔ کرتے کی استین دوپٹے کی انچل سے یہاں تک کہ چادر کا ایک کونا اس کے کندھے پر ہے تو دوسرے کونے سے قران پاک چھونا حرام ہے کیونکہ یہ سب اس کے ایسے ہی تابع ہیں جیسے چولی قران مجید کے تابع تھی۔ (5)…روپیہ کے او پر ایت لکھی ہو تو ان سب کو (یعنی بے وضو اور جنب اور حیض و نفاس والی کو) اس کا چھونا حرام ہے ہاں اگر روپے تھیلی میں ہوں تو تھیلی اٹھانا جائز ہے۔یوہیں جس برتن یا گلاس پر سورت یا ایت لکھی ہو اس کو چھونا بھی انہیں حرام ہے اور اس برتن یا گلاس کواستعمال کرنا ان سب کے لئے مکروہ ہےالبتہ اگر خاص شفا کی نیت سے انہیں استعمال کریں تو حرج نہیں ۔ (6)…قران کا ترجمہ فارسی یا اردو یا کسی اور زبان میں ہو تو اسے بھی چھونے اور پڑھنے میں قران مجید ہی کا سا حکم ہے۔ (7)…قران مجید دیکھنے میں ان سب پر کچھ حرج نہیں اگرچہ حروف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں ائیں اور دل میں پڑھتے جائیں ۔ (بہار شریعت حصہ دوم غسل کا بیان ۱ / ۳۲۶-۳۲۷ ملخصا) { تنزیل: اتارا ہوا ہے۔} اس ایت میں بھی اللہ تعالی نے ان لوگوں کا رد کیا جو قران پاک کو شعر جادو یا کہانت کہتے ہیں اور ارشاد فرمایا کہ یہ قران اس رب تعالی کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو سب جہانوں کا مالک ہے توپھر یہ شعر یا جادو کس طرح ہو سکتا ہے۔( خازن الواقعۃ تحت الایۃ: ۸۰ ۴ / ۲۲۴ ملتقطا)