Surah Al Mujadilah Ayat 14 (58:14)
The Pleading Woman · Juz 28 · Madani
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْؕ-مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْۙ-وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہوں نے ان لوگوں کودوست بنالیا جن پر اللہ نے غضب فرمایا، وہ نہ تم میں سے ہیں اورنہ ہی ان میں سے۔ اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پرقسم کھاتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تم نے اُنھیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے وہ نہ تم میں سے نہ اُن میں سے وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{الم تر الى الذین: کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا ۔ }شان نزول: یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے یہودیوں سے دوستی کی اور ان کی خیر خواہی میں لگے رہتے اور مسلمانوں کے راز ان سے کہتے۔ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اے سننے والے ! کیا تم نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جنہوں نے یہودیوں کودوست بنالیا جن پر اللہ تعالی نے غضب فرمایا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ نہ مسلمان ہیں اور نہ یہودی بلکہ منافق ہیں۔( خازن المجادلۃ تحت الایۃ: ۱۴ ۴ / ۲۴۲) منافقوں کے تذبذب کا حال: منافقوں کے اسی تذبذب کا حال بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’مذبذبین بین ذلك ﳓ لا الى هؤلآء و لا الى هؤلآء-و من یضلل الله فلن تجد له سبیلا‘‘(النساء:۱۴۳) ترجمہکنزالعرفان: درمیان میں ڈگمگا رہے ہیں نہ ان کی طرف ہیں نہ ان کی طرف اور جسے اللہ گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی راستہ نہ پاو گے۔ اورحضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ منافقوں کی مثال اس بکری جیسی ہے جودوریوڑوں کے درمیان مترددہوکبھی اس ریوڑ میں جاتی ہے اور کبھی اس ریوڑ میں ۔( مسلم کتاب صفات المنافقین واحکامہم ص۱۴۹۸ الحدیث: ۱۷(۲۷۸۴)) {و یحلفون على الكذب و هم یعلمون: اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پرقسم کھاتے ہیں ۔ } شان نزول : یہ آیت عبداللہ بن نبتل منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مجلس میں حاضر رہتااور یہاں کی بات یہودیوں کے پاس پہنچاتا ایک روز حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دولت سرائے اقدس میں تشریف فرماتھےاپ نے ارشاد فرمایا’’اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل انتہائی سخت ہے اور وہ شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن نبتل آیا اس کی آنکھیں نیلی تھیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سے ارشادفرمایا’’ تو اور تیرے ساتھی ہمیں کیوں گالیاں دیتے ہیں وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو بھی لے آیا انہوں نے بھی قسم کھائی کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(خازن المجادلۃ تحت الایۃ: ۱۴ ۴ / ۲۴۲)