Surah Al Mujadilah Ayat 9 (58:9)
The Pleading Woman · Juz 28 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰىؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! جب تم آپس میں مشورہ کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرو اوراس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تمہیں اکٹھا کیاجائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کروتو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کی مشورت کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے۔
Tafseer (Urdu)
{یایها الذین امنوا اذا تناجیتم: اے ایمان والو! جب تم آپس میں مشورہ کرو۔} اس سے پہلی ایت میں گناہ حد سے بڑھنے اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کے بارے میں مشورے کرنے پر یہودیوں اور منافقوں کی مذمت بیان کی گئی اور اس ایت میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو ان جیسے طریقے سے پرہیز کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم جب آپس میں مشورہ کرو تو یہودیوں اور منافقوں کی طرح گناہ حد سے بڑھنے اور رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرنا بلکہ نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرنا اوراس اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا جس کی طرف تم اٹھائے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس ایت میں منافقوں سے خطاب ہے اور ایت کا معنی یہ ہے کہ اے اپنی زبان سے ایمان لانے والو! تم جب آپس میں مشورہ کرو تو گناہ حد سے بڑھنے اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کا مشورہ نہ کرو بلکہ نیکی اورپرہیزگاری کا مشورہ کرو اوراس اللہ تعالی سے ڈرو جس کی طرف تم حساب کے لئے اٹھائے جاؤ گے تو وہ تمہیں تمہارے مشوروں کی جزا دے گا۔( تفسیرکبیرالمجادلۃ تحت الایۃ: ۹ ۱۰ / ۴۹۲ خازن المجادلۃ تحت الایۃ: ۹ ۴ / ۲۴۰ مدارک المجادلۃ تحت الایۃ: ۹ ص۱۲۱۸ ملتقطا) ایت’’یایها الذین امنوا اذا تناجیتم‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے چار باتیں معلوم ہوئیں (1)… مسلمان صلاح مشورے مسلمانوں ہی سے کریں کفار سے نہ کریں اور انہیں اپنا مشیر وغیرہ نہ بنائیں ۔ (2)… اپس میں مشورے بھی اچھے ہی کریں برے نہ کریں ۔ (3)… مسلمانوں کی خلوت بھی جلوت کی طرح پاکیزہ ہونی چاہیے۔ (4)… تنہائی میں بھی حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ادب و احترام ملحوظ رکھے۔ مبارک ہے وہ عالم جو اپنی تنہائی میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فضائل سوچے اور بد نصیب ہے وہ شخص جس کا وقت حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی توہین کے بارے سوچنے میں گزرے۔