Surah Al Hashr Ayat 14 (59:14)
The Exile · Juz 28 · Madani
لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍؕ- بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌؕ-تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰىؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ سب (مل کر بھی) تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دیواروں کے پیچھے سے ،ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہے۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں، یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دُھسوں کے پیچھے آپس میں ان کی آنچ سخت ہے تم انہیں ایک جتھا سمجھو گے اور ان کے دل الگ الگ ہیں یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{لا یقاتلونكم جمیعا: یہ سب (مل کر بھی) تم سے نہ لڑیں گے ۔} یعنی اے مسلمانو!سب یہودی مل کر بھی اعلانیہ تم سے نہ لڑیں گے بلکہ قلعہ بند شہروں میں یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر لڑیں گے۔( روح البیان الحشر تحت الایۃ: ۱۴ ۹ / ۴۴۰-۴۴۱)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مدینہ منورہ کے اہل کتاب نے کبھی کھلم کھلا مسلمانوں کے مقابلے کی ہمت نہ کی بلکہ غزوہ خندق کے بعد جب مسلمانوں نے ان کی بد عہدی کی بنا پر ان سے مقابلہ کیا تو وہ اپنے کوچہ بند محلوں میں بند ہو کر بیٹھ گئے پھر مجبورا نکلے تو بنوقریظہ قتل اور بنو نضیر جلا وطن کر دئیے گئےیوں اللہ تعالی نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔ خیال رہے کہ یہاں صرف مدینہ منورہ کے کتابیوں کا ذکر ہے لہذا اس ایت پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانے میں مشرکین اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے مقابلے میں ائے اور ان سے بڑی بڑی لڑائیاں ہوئیں ۔ {باسهم بینهم شدید: ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہے۔} یعنی جب وہ یہودی آپس میں لڑتے ہیں تو بہت شدت اور سختی سے لڑتے ہیں لیکن مسلمانوں کے مقابلے میں بزدل اور نامرد ثابت ہوتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیاہے ۔ {تحسبهم جمیعا و قلوبهم شتى: تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں ۔} یعنی اے سننے والے تم انہیں ایک متحد متفق اور ایک دوسرے سے الفت رکھنے والی جماعت سمجھتے ہوحالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں اور وہ ایک دوسرے سے کوئی الفت نہیں رکھتے اور ان کے دلوں کا الگ الگ ہونا اس لیے ہے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں نہ حق کو پہچانتے ہیں اور نہ اس کی پیروی کرتے ہیں ۔( روح البیان الحشر تحت الایۃ: ۱۴ ۹ / ۴۴۱) مسلمان کافروں پر کسی صورت اعتماد نہ کریں : اس ایت سے معلو م ہواکہ کفار مسلمانوں کے مقابلے میں کسی مصلحت کی وجہ سے ایک ہوجاتے ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں باہمی اتفاق اور اتحاد نہیں ہے بلکہ یہ ایک دوسرے کے شدید دشمن ہیں اور اپنی دشمنی نکالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ایمان والے ایک دوسرے کے خیرخواہ اورباہم محبت کرنے والے ہوتے ہیں اگرچہ ان کے گھر اور اجسام جدا جدا ہوں اورفاجرلوگ اپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ اورخیانت کرنے والے ہوتے ہیں اگرچہ ان کے گھر اور بدن اکھٹے ہوں ۔( الفردوس بماثورالخطاب باب المیم ۴ / ۱۸۹ الحدیث: ۶۵۸۴) فی زمانہ بھی ا س کے نظارے دیکھے جا رہے ہیں لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ کفار پر کسی صورت اعتماد نہ کریں بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں پر اعتماد کریں اور مسلمانوں کوبھی چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے اعتماد پر پورا اتریں ۔