Surah Al Hashr Ayat 21 (59:21)
The Exile · Juz 28 · Madani
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تم اسے جھکا ہوا، اللہ کے خوف سے پاش پاش دیکھتے اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اُتارتے تو ضرور تو اُسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللہ کے خوف سے اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں ۔
Tafseer (Urdu)
{لو انزلنا هذا القران على جبل: اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے۔} یعنی قران مجید کی عظمت و شان ایسی ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر اتارتے اور اس کو انسان کی سی تمیز عطا کرتے تو انتہائی سخت اور مضبوط ہونے کے باوجود تم اسے ضرورجھکا ہوا اور اللہ تعالی کے خوف سے پاش پاش دیکھتے ہم یہ اور اس جیسی دیگر مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں (اور خیال کریں کہ جب ہم اشرف المخلوقات ہیں تو چاہیے کہ ہمارے اعمال بھی اشرف و اعلی ہوں۔) (مدارک الحشر تحت الایۃ: ۲۱ ص۱۲۲۸ خازن الحشر تحت الایۃ: ۲۱ ۴ / ۲۵۳ ملتقطا) نوٹ:یاد رہے کہ یہاں ایت میں قران سے مراد اللہ تعالی کا کلام ہے اور اتارنے سے مراد اس کلام کو اس کی عظمت کے ظہور کے ساتھ اتارنا مراد ہے یعنی اگر ہم قران مجید کو اس کی عظمت ظاہر کرتے ہوئے پہاڑ پر اتار دیتے تو وہ اس کی تاب نہ لاتا اور پھٹ جاتا۔ اس ایت سے اشارۃ معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا قلب شریف پہاڑسے زیادہ قو ی اور مضبوط ہے کیونکہ اپ کو اللہ تعالی کا خوف اور اسرار الہی سے واقفیت کامل طریقے سے حاصل ہونے کے باوجود اپ اپنے مقام پر قائم ہیں ۔