Surah Al Anam Ayat 155 (6:155)
The Cattle · Juz 8 · Makki
وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ 155
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہ برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ، تو تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگار بنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہ برکت والی کتاب ہم نے اُتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری کرو کہ تم پر رحم ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ و هذا كتب:اور یہ کتاب۔} یعنی قرآن شریف جو کثیر خیر والا کثیر نفع والا اور کثیر برکت والا ہے اور قیامت تک رہے گا اور تحریف و تبدیل و نسخ سے محفوظ رہے گا۔ قران اس لئے مبارک ہے کہ مبارک فرشتہ اسے لایا مبارک مہینے رمضان میں لایا مبارک ذات پر اترا خالق و مخلوق کے درمیان وسیلہ ہے جس کام پر اس کی ایات پڑھ دی جائیں اس میں برکت ہو جائے اور سب سے بڑھ کر اس کی تعلیمات اور ہدایت برکت والی ہیں۔ { فاتبعوه:تو تم اس کی پیروی کرو۔} یعنی قران کریم میں مذکور احکامات پر عمل کرو ممنوعات سے باز اجاو اور اس کی مخالفت کرنے سے بچو تاکہ اس اتباع اور عمل کی برکت سے تم پر رحم کیا جائے۔ امت پر قران مجید کا حق: اس سے معلوم ہو اکہ امت پر قران مجید کا ایک حق یہ ہے کہ وہ ا س مبارک کتاب کی پیروی کریں اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے بچیں۔ افسوس! فی زمانہ قران کریم پر عمل کے اعتبار سے مسلمانوں کا حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے اج مسلمانوں نے ا س کتاب کی روزانہ تلاوت کرنے کی بجائے اسے گھروں میں جزدان و غلاف کی زینت بنا کر اور دکانوں پر کاروبار میں برکت کے لئے رکھا ہوا ہے اور تلاوت کرنے والے بھی صحیح طریقے سے تلاوت کرتے ہیں اور نہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے رب عزوجل نے اس کتاب میں ان کے لئے کیا فرمایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس مقدس کتاب کو سینے سے لگا کر حرز جاں بنائے رکھا اور اس کے دستور و قوانین اور احکامات پر سختی سے عمل پیرا رہے تب تک دنیا بھر میں ان کی شوکت کا ڈنکا بجتا رہا اور غیروں کے دل مسلمانوں کا نام سن کر دہلتے رہے اور جب سے مسلمانوں نے قران عظیم کے احکام پر عمل چھوڑ رکھا ہے تب سے وہ دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہو رہے اور اغیار کے دست نگر بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ ز مانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر اور ہم خوار ہوئے تارک قراں ہو کر قران کریم کے احکام پر عمل نہ کرنے کا دنیوی نقصان تو اپنی جگہ اخروی نقصان بھی انتہائی شدید ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ قران شفاعت کرنے والا ہے اور اس کی شفاعت مقبول ہے جس نے (اس کے احکامات پر عمل کر کے) اسے اپنے سامنے رکھا تو یہ اسے پکڑ کر جنت کی طرف لے جائے گا اور جس نے (اس کے احکامات کی خلاف ورزی کر کے) اسے اپنے پیچھے رکھا تو یہ اسے ہانک کر جہنم کی طرف لے جائے گا۔(معجم الکبیر ومن مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ۱۰ / ۱۹۸ الحدیث: ۱۰۴۵۰ ملتقطا)