Surah Al Anam Ayat 83 (6:83)
The Cattle · Juz 7 · Makki
وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖؕ-نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ-اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ 83
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہ ہماری مضبوط دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عطا فرمائی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کردیتے ہیں ۔ بیشک تمہارا رب حکمت والا ،علم والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں بیشک تمہارا رب علم و حکمت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ و تلك حجتنا: اور یہ ہماری مضبوط دلیل ہے۔} اس رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی شان اور دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی عظمت کا بیان ہے اور اس سارے بیان کا مقصد سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے اقا امام الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تسکین و تعلیم اور تربیت ہے جیسا کہ رکوع کے اخر میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا کثرت سے تذکرہ کرنا اور محفلوں مجلسوں کو ان کے ذکرپاک سے اراستہ کرنا اللہ عزوجل کو نہایت محبوب ہے اور ایمان کی طاقت اور عقیدہ توحید کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کے سامنے سورج چاند ستاروں کے ذریعے اور دیگر جو دلائل بیان فرمائے وہ سب دلائل اللہ عزوجل نے انہیں عطا فرمائے تھے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کا سورج چاند وغیرہا کو رب کہنا معاذاللہ بطور شرک نہیں بلکہ قوم کے سامنے بطور دلیل تھا کیونکہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ یہ باتیں تو ہم نے انہیں بطور دلیل کے عطا فرمائی تھیں۔ { نرفع درجت: ہم درجات بلند کرتے ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ ہم جس کے چاہتے ہیں علم عقل فہم اور فضیلت کے ساتھ درجات بلند کردیتے ہیں جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے دنیا میں علم و حکمت اور نبوت کے ساتھ اور آخرت میں قرب و ثواب کے ساتھ درجے بلند فرمائے۔