Surah At Taghabun Ayat 11 (64:11)
The Mutual Disillusion · Juz 28 · Madani
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیدے گا اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ما اصاب من مصیبة الا باذن الله: ہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ موت کی مرض کی اورمال کے نقصان وغیرہ کی الغرض ہر مصیبت اللہ تعالی کے حکم سے ہی پہنچتی ہے اور جو اللہ تعالی پر ایمان لائے اور جانے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالی کی مشیت اور اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور مصیبت کے وقت انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھے اور اللہ تعالی کی عطا پر شکر اور بلا پر صبر کرے تو اللہ تعالی اس کے دل کو ہدایت دیدے گا کہ وہ اور زیادہ نیکیوں اور طاعتوں میں مشغول ہواور اللہ تعالی سب کچھ جانتا ہے۔( خزائن العرفان التغابن تحت الایۃ: ۱۱ ص۱۰۳۰ ملخصا) خیال رہے کہ بعض مصیبتیں ہمارے گناہوں کی شامت سے اتی ہیں مگر اتی اللہ تعالی کے حکم سے ہیں لہذا یہ ایت سورہ شوری کی اس ایت: ’’و ما اصابكم من مصیبة فبما كسبت ایدیكم‘‘(شوری:۳۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے۔ کے خلاف نہیں ۔نیز یہ بھی خیال رہے کہ دنیا کی مصیبتیں مومن کے لئے بہت مرتبہ گناہ کا کفارہ بنتی ہیں یا درجات کی بلندی کا سبب ہوتی ہیں جبکہ کفار کے لئے عذاب ہیں لہذا زیر تفسیر ایت بالکل صاف ہےاس پر کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔