Surah At Taghabun Ayat 6 (64:6)
The Mutual Disillusion · Juz 28 · Madani
ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا٘-فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُؕ-وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے تو وہ کہتے : کیا آدمی ہماری رہنمائی کریں گے تو انہوں نے کفر کیااور منہ پھیر لیا اور اللہ نے بے پروائی فرمائی اور اللہ بے پروا،ہر حمد کے لائق ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ اس لیے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول روشن دلیلیں لاتے تو بولے کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے تو کافر ہوئے اور پھرگئے اور اللہ نے بے نیازی کو کام فرمایا اور اللہ بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا۔
Tafseer (Urdu)
{ذلك بانه كانت تاتیهم رسلهم بالبینت: یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے۔} یعنی سابقہ کافروں پر یہ دنیا کے عذاب اس لیے ائے کہ جب ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے اور معجزے دکھاتے( جن سے ان کی حقانیت روز روشن کی طرح ظاہر ہو جاتی) تو وہ کہتے : کیا آدمی بشر ہماری رہنمائی کریں گے تو انہوں نے رسولوں کا انکار کر کے کفر کیااور ایمان لانے سے پھر گئے اور اللہ تعالی تو ازل سے ہی ان کے ایمان اور ان کی طاعت و عبادت سے بے پرواہ ہے کیونکہ وہ اپنی مخلوق سے بے نیاز اور اپنے تمام افعال میں حمد کے لائق ہے (چنانچہ جب انہوں نے کفر کیا اور کسی طرح ایمان نہ لائے تواس کا نتیجہ یہ ہواکہ دنیا میں ان پر عذاب ائے)۔( خازن التغابن تحت الایۃ: ۶ ۴ / ۲۷۵ تفسیر کبیر التغابن تحت الایۃ: ۶ ۱۰ / ۵۵۳ مدارک التغابن تحت الایۃ: ۶ ص۱۲۴۷ ملتقطا) ایت ’’ذلك بانه كانت تاتیهم رسلهم بالبینت‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے تین باتیں معلوم ہوئیں (1)… ہر رسول علیہ السلام کو معجزہ ضروردیا گیا۔یاد رہے کہ کسی کو ایک اور کسی کو زیادہ معجزات عطا کئے گئے اور ہمارے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو سب سے زیادہ معجزے عطا ہوئے ہیں ۔ (2)…کافروں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا۔یہ ان کی بے عقلی اور نافہمی کی انتہاء ہے کہ انہوں نے بشر کا رسول ہونا تو نہ مانا جبکہ پتھروں کو خدا تسلیم کرلیا۔ (3)… برابری کا دعوی کرنے کے لئے نبی کو بشر کہنا کفر ہے ۔یاد رہے کہ عام محاورہ میں یعنی بے ادبی کے انداز میں انبیاء کرام علیہ م الصلوۃ والسلام کو بشر کہہ کر پکارنا حرام ہے اور یہ کافروں کا طریقہ ہے۔