Surah Al Mulk Ayat 22 (67:22)
The Sovereignty · Juz 29 · Makki
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے وہ زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھی راہ پرسیدھا چلے؟۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی راہ پر۔
Tafseer (Urdu)
{افمن یمشی مكبا على وجهه: تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے مومن اور کافر کا حال واضح کرنے کے لئے ایک مثال بیان فرمائی ہےچنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! کیا وہ شخص جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے اور نہ آگے دیکھے نہ پیچھے نہ دائیں دیکھے نہ بائیں وہ زیادہ راہ پر ہے یا وہ شخص جو راستے کو دیکھتے ہوئے سیدھی راہ پرسیدھا چلے جو منزل مقصود تک پہنچانے والی ہے۔( صاوی الملک تحت الایۃ: ۲۲ ۱۰ / ۲۲۰۶ تفسیر طبری الملک تحت الایۃ: ۲۲ ۱۲ / ۱۷۱ ملتقطا) کافر اور مومن کی دنیوی مثال اوران کا اخروی حال: اس مثال کا مقصود یہ ہے کہ کافر گمراہی کے میدان میں اس طرح حیران و سرگرداں جاتا ہے کہ نہ اسے منزل معلوم اور نہ وہ راستہ پہچانے اور مومن آنکھیں کھولے راہ حق دیکھتا اورپہچانتا چلتا ہے۔یہ تو کافر اور مومن کی دنیوی مثال ہے جبکہ اخرت میں کفار کو واقعی منہ کے بل اٹھایا اور چہروں کے بل جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’و نحشرهم یوم القیمة على وجوههم عمیا و بكما و صما-ماوىهم جهنم-كلما خبت زدنهم سعیرا‘‘(بنی اسرائیل:۹۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم انہیں قیامت کے دن ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے اس حال میں کہ وہ اندھے اور گونگے اور بہرے ہوں گے۔ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب کبھی بجھنے لگے گی تو ہم اسے اور بھڑکادیں گے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ الذین یحشرون على وجوههم الى جهنم-اولىك شر مكانا و اضل سبیلا ‘‘(فرقان:۳۴) ترجمہ کنزالعرفان: وہ جنہیں ان کے چہروں کے بل جہنم کی طرف ہانکا جائے گا ان کا ٹھکانہ سب سے بدتر اوروہ سب سے زیادہ گم راہ ہیں۔ اور ایمان والے متقی لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’و سیق الذین اتقوا ربهم الى الجنة زمرا-حتى اذا جآءوها و فتحت ابوابها و قال لهم خزنتها سلم علیكم طبتم فادخلوها خلدین‘‘(زمر:۷۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور اپنے رب سے ڈرنے والوں کوگروہ درگروہ جنت کی طرف چلایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور اس کے داروغے ان سے کہیں گے: تم پر سلام ہوتم پاکیزہ رہے تو ہمیشہ رہنے کوجنت میں جاؤ۔