Surah Al Mulk Ayat 5 (67:5)
The Sovereignty · Juz 29 · Makki
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورضرور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کررکھا ہے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کوچراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے لیے مار کیا اور ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار فرمایا۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد زینا السمآء الدنیا بمصابیح: اور ضرور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا۔} ا س ایت میں اللہ تعالی نے اپنی قدرت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی ہے کہ بیشک اللہ تعالی نے نیچے کے آسمان کو ستاروں سے آراستہ کیا جو کہ زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب ہے اور لوگ اسے دیکھتے ہیں اور ان ستاروں کوشیطانوں کے لیے مارنے کا ذریعہ بنایا کہ جب شیاطین آسمان کی طرف فرشتوں کی گفتگو سننے اور باتیں چرانے پہنچیں تو ستاروں سے شعلے اور چنگاریاں نکلیں جن سے انہیں مارا جائے اور اللہ تعالی نے ان شیاطین کے لیے دنیا میں جلانے کے بعد آخرت میں بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کررکھا ہے۔( خازن الملک تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۲۹۰) اس کی نظیر یہ ایات مبارکہ ہیں : ’’ انا زینا السمآء الدنیا بزینة ﹰالكواكب(۶) و حفظا من كل شیطن مارد‘‘(صفت:۶۷) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو ستاروں کے سنگھار سے آراستہ کیا۔ اور ہر سرکش شیطان سے حفاظت کیلئے ۔ مسجدوں میں روشنی کے الات نصب کرنے کی ترغیب: علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ اس مقام پر مساجد میں روشنی کرنے کے الات نصب کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’جب اللہ تعالی نے زمین کی چھت اسمان کوستاروں سے مزین فرمایا ہے تو بندوں کو چاہئے کہ وہ مساجد کی چھتوں کو قندیلوں اور چراغوں (اورفی زمانہ روشنی حاصل کرنے کے جدید الات)سے مزین کریں ۔جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز تراویح میں لوگوں کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے اکٹھا کیا تو مسجد میں قندیلیں لٹکائیں انہیں دیکھ کر حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے فرمایا:اے ابن خطاب! رضی اللہ تعالی عنہ اپ نے ہماری مسجدوں کو روشن کیا اللہ تعالی اپ کی قبر کو روشن کرے۔( روح البیان الملک تحت الایۃ: ۵ ۱۰ / ۸۱ سیرت حلبیہ باب الہجرۃ الی المدینۃ ۲ / ۱۱۲)