Surah Al Qalam Ayat 10 (68:10)
The Pen · Juz 29 · Makki
وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہر ایسے آدمی کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا، ذلیل۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والاذلیل۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تطع كل حلاف: اور ہر ایسے ادمی کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے مشرکین کی بات ماننے سے منع کیا اور اس ممانعت میں تمام کفار داخل ہیں اب یہاں کفر کے علاوہ مزید عیوب بیان کر کے دوبارہ منع کیا جا رہا ہے کہ جس کافر میں یہ عیب ہوں ا س کی بات بطور خاص نہ مانی جائے۔یہاں ایت میں دو عیب بیان کئے گئے ہیں ۔ (1)… وہ ’’حلاف‘‘ ہے۔ حلاف اسے کہتے ہیں جو حق اور باطل دونوں طرح کے معاملات میں بہت زیادہ قسمیں کھاتا ہو۔ (2)…وہ ذلیل ہےکیونکہ بات بات پر قسمیں کھانے والا اور جھوٹی قسمیں کھانے والا لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل ہوتا ہے۔( تفسیر کبیر القلم تحت الایۃ: ۱۰ ۱۰ / ۶۰۳-۶۰۴ ملخصا) یاد رہے کہ جمہور مفسرین کے نزدیک ا س ایت سے لے کر ایت نمبر 16تک جو مذموم اوصاف بیان کئے گئے یہ ولید بن مغیرہ کے ہیں جبکہ بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ اوصاف اسود بن عبد یغوث یا اخنس بن شریق یا ابو جہل بن ہشام کے ہیں ۔( صاوی القلم تحت الایۃ: ۱۰ ۶ / ۲۲۱۲-۲۲۱۳) بات بات پر قسمیں اٹھانے والے نصیحت حاصل کریں : اس ایت سے ان مسلمانو ں کو بھی نصیحت حاصل کرنی چاہئے کہ جو بات بات پر اللہ تعالی کی یا قران کی قسمیں اٹھانا شروع کر دیتے ہیں اور بسا اوقات جھوٹے ہونے کے باوجود بھی کثرت کے ساتھ قسمیں کھاتے نظر اتے ہیں تاکہ کسی طرح ان کی بات کو سچ مان لیا جائے اور ان کے ا س عمل کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں ان کی جو عزت اور مقام بنتا ہے وہ سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔زیادہ قسمیں کھانے اور قسموں کو دھوکا دینے اور فساد برپا کرنے کا ذریعہ بنانے سے منع کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:’’و لا تجعلوا الله عرضة لایمانكم‘‘(بقرہ:۲۲۴) ترجمہکنزالعرفان: اور اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ کے نام کو اڑ نہ بنالو۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’و لا تتخذوا ایمانكم دخلا بینكم فتزل قدم بعد ثبوتها و تذوقوا السوء بما صددتم عن سبیل الله-و لكم عذاب عظیم‘‘(نحل:۹۴) ترجمہکنزالعرفان: اورتم اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ نہ بناوورنہ قدم ثابت قدمی کے بعد پھسل جائیں گے اور تم اللہ کے راستے سے روکنے کی وجہ سے سزا کا مزہ چکھو گے اور تمہارے لئے بہت بڑا عذاب ہوگا۔ اورقسموں کے بدلے دنیا کا ذلیل مال لینے والوں کے بارے ارشاد فرماتا ہے: ’’ان الذین یشترون بعهد الله و ایمانهم ثمنا قلیلا اولىك لا خلاق لهم فی الاخرة و لا یكلمهم الله و لا ینظر الیهم یوم القیمة و لا یزكیهم۪-و لهم عذاب الیم‘‘(ال عمران:۷۷) ترجمہکنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ کے وعدے اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں ان لوگوں کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ توان سے کلام فرمائے گااور نہ ان کی طرف نظر کرے گااور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائےامین۔