Surah Al Qalam Ayat 18 (68:18)
The Pen · Juz 29 · Makki
وَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اِنْ شَآءَ اللہ نہیں کہہ رہے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اِنْ شَآءَ اللہ نہ کہا۔
Tafseer (Urdu)
{و لا یستثنون: اور ان شاء اللہ نہیں کہہ رہے تھے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی 14ایات میں اس واقعے کا بقیہ حصہ بیان کیا گیا ہےاس کاخلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے صبح سویرے پھل توڑنے کی قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہنا بھول گئے۔ پھر یہ لوگ تو قسمیں کھا کر سوگئے اور ا س باغ پر اللہ تعالی کے حکم سے رات میں ایک اگ ائی جو اسے تباہ کر گئی اور صبح کے وقت تک وہ باغ جل کرسیاہ رات کی طرح ہوگیا اوران لوگوں کو ا س کی کچھ خبر نہ ہوئی ۔یہ صبح سویرے اٹھے اور ایک دوسرے کو پکارا کہ اگر تم باغ کا پھل کاٹنا چاہتے ہو تو صبح منہ اندھیرے اپنی کھیتی پر چلو۔ چنانچہ وہ لوگ باغ کی طرف چلے اور ا س دوران آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے کہ ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے اوروہ اپنے اپ کو اس ارادہ پرقادرسمجھتے ہوئے صبح سویرے چلے کہ کسی مسکین کو اندرنہ آنے دیں گے اور وہ تمام پھل اپنے قبضہ میں لائیں گے ۔پھر جب باغ کے قریب پہنچے اور انہوں نے اس باغ کو دیکھا کہ وہ جل چکا ہے اور اس میں پھل کا نام ونشان نہیں توکہنے لگے:بیشک ہم کسی اور باغ پر پہنچ گئے ہیں کیونکہ ہمارا باغ تو بہت پھل دار ہے ۔پھر جب غور کیا اور اس کے درو دیوار کو دیکھا اور پہچان لیا کہ یہ اپنا ہی باغ ہے تو کہنے لگے: ہم راستہ نہیں بھولے بلکہ حق دار مسکینوں کو روکنے کی نیت کر کے ہم خوداس کے پھل سے محروم ہوگئے ہیں ۔ ان میں سے جو عقلمند تھا اس نے کہا: کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تم اللہ تعالی کی تسبیح کیوں نہیں کرتے اور اس برے ارادے سے توبہ کیوں نہیں کرتے اور اللہ تعالی کی نعمت کا شکر کیوں نہیں بجالاتے اس پرسب نے کہا:ہمارا رب عزوجل پاک ہے بیشک ہم ظالم تھے اوراس وقت وہ ملامت کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے اور آخر کار ان سب نے اعتراف کیا کہ ہم سے خطا ہوئی اور ہم حد سے تجاوز کرگئے۔وہ کہنے لگے: ہائے ہماری خرابی بے شک ہم سرکش تھے کہ ہم نے اللہ تعالی کی نعمت کا شکر نہ کیا اور اپنے باپ دادا کے نیک طریقے کو چھوڑدیا امید ہے کہ ہمارا رب عزوجل ہمیں اس سے بہتر بدل دے اب ہم اپنے رب عزوجل کی طرف ہی رغبت رکھنے والے ہیں اور اس کے عفوو کرم کی امید رکھتے ہیں ۔ان لوگوں نے سچے دل سے اور اخلاص کے ساتھ توبہ کی تو اللہ تعالی نے انہیں اس کے بدلے اس سے بہتر باغ عطا فرمایا جس کا نام’’ باغ حیوان‘‘ تھا اور اس میں کثیر پیداوارہوئی۔( خازن ن تحت الایۃ: ۱۸-۳۲ ۴ / ۲۹۶-۲۹۷ مدارک القلم تحت الایۃ: ۱۸-۳۲ ص۱۲۶۸-۱۲۶۹ ملتقطا)