Surah Al Qalam Ayat 17 (68:17)
The Pen · Juz 29 · Makki
اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِۚ-اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہم نے انہیں جانچا جیسا باغ والوں کو جانچا تھا جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس باغ کو کاٹ لیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ہم نے انہیں جانچا جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھاجب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کے کھیت کاٹ لیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{انا بلونهم كما بلونا اصحب الجنة: بیشک ہم نے ان کو جانچا جیسا باغ والوں کو جانچا تھا۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے کفار مکہ کو مال اور دولت شکر ادا کرنے کے لئے دی تھی نہ کہ تکبر و سرکشی کرنے کے لئے تو جب انہوں نے تکبر کیا اور میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے دشمنی مول لی تو ہم نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ا س دعا سے کہ یارب! عزوجل انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہوئی تھینیز کفار مکہ کو بھوک اور قحط کے ذریعے ازمائش میں مبتلا کر دیا گیاجیسا کہ باغ والوں کو کیا تھا۔چنانچہ کفار مکہ قحط کی مصیبت میں اس قدر مبتلا کئے گئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے ۔ باغ والوں کا واقعہ: اس ایت میں جس باغ کی مثال دے کر ا س کا واقعہ بیان کیا گیااس کا نام ضردان تھا یہ باغ یمن کے شہر صنعاء سے دو فرسنگ(یعنی 6میل) کے فاصلے پر سر راہ واقع تھا ۔اس باغ کا مالک ایک نیک مرد تھا اور وہ باغ کے پھل کثرت سے فقراء کو دیتا تھااس کی عادت یہ تھی کہ جب باغ میں جاتا تو فقراء کو بلالیتا اورتمام گرے پڑے پھل فقراء لے لیتے ۔پھر باغ میں بستر بچھادیئے جاتے اورجب پھل توڑے جاتے تو جتنے پھل بستروں پر گرتے وہ بھی فقراء کو دے دیئے جاتے اور جو خالص اپنا حصہ ہوتا اس سے بھی وہ دسواں حصہ فقراء کو دے دیتا اسی طرح کھیتی کاٹتے وقت بھی اس نے فقراء کے حقوق بہت زیادہ مقرر کئے ہوئے تھے۔ اس کے انتقال کے بعد اس کے تین بیٹے وارث ہوئے انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ مال قلیل ہے اور کنبہ بہت زیادہ ہے اس لئے اگر والد کی طرح ہم بھی خیرات جاری رکھیں تو تنگ دست ہوجائیں گے۔اس پر انہوں نے آپس میں مل کر قسمیں کھائیں کہ صبح سویرے لوگوں کے اٹھنے سے پہلے ہی باغ میں چل کر پھل توڑ لیں گے تاکہ مسکینوں کو خبر نہ ہو۔( تفسیرقرطبیالقلم تحت الایۃ: ۱۷ ۹ / ۱۸۰ الجزء الثامن عشر مدارک القلم تحت الایۃ: ۱۷ ص۱۲۶۸ خازن ن تحت الایۃ: ۱۷ ۴ / ۲۹۶ ملتقطا)