Surah Al Qalam Ayat 4 (68:4)
The Pen · Juz 29 · Makki
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و انك لعلى خلق عظیم: اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔} علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’یہ ایت گویا کہ ’’ما انت بنعمة ربك بمجنون‘‘ کی تفسیر ہے کیونکہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قابل تعریف اخلاق اور پسندیدہ افعال اپ کی ذات مبارکہ سے ظاہر تھے اور جس کی ایسی شان ہو اس کی طرف جنون کی نسبت کرنا درست نہیں ۔( خازن ن تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۲۹۴) اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں :حق جل و علا نے فرمایا:’’و انك لعلى خلق عظیم‘‘ اور بے شک تو بڑے عظمت والے ادب تہذیب پر ہے کہ ایک حلم وصبر کیا تیری جوخصلت ہے اس درجہ عظیم و باشوکت ہے کہ اخلاق عاقلان جہان مجتمع ہو کر اس کے ایک شمہ (یعنی قلیل مقدار) کو نہیں پہنچتے پھر اس سے بڑھ کراندھا کون جو تجھے ایسے لفظ سے یاد کرے۔(فتاوی رضویہ ۳۰ / ۱۶۴-۱۶۵) حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مبارک اخلاق: اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اخلاق کریمہ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’فبما رحمة من الله لنت لهم-و لو كنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حولك‘‘(ال عمران:۱۵۹) ترجمہ کنزالعرفان: تو اے حبیب! اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ اپ ان کے لئے نرم دل ہیں اور اگر اپ ترش مزاج سخت دل ہوتے تو یہ لوگ ضروراپ کے پاس سے بھاگ جاتے۔ اور حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی نے اخلاق کے درجات مکمل کرنے اور اچھے اعمال کے کمالات پورے کرنے کے لیے مجھ کو بھیجا۔( شرح السنہ کتاب الفضائل باب فضائل سید الاولین والاخرین...الخ ۷ / ۹ الحدیث: ۳۵۱۶) اورحضرت سعد بن ہشام رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے دریافت کیا:اے ام المومنین! رضی اللہ تعالی عنہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: ’’کیا تم قران نہیں پڑھتے میں نے عرض کی: کیوں نہیں ! تو اپ نے ارشاد فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا خلق قران ہی تو ہے۔( مسلم کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا باب جامع صلاۃ اللیل... الخ ص۳۷۴ الحدیث: ۱۳۹(۷۴۶)) اورعلامہ عبد المصطفی اعظمی رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں : ’’حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم محاسن اخلاق کے تمام گوشوں کے جامع تھے۔ یعنی حلم و عفورحم و کرم عدل و انصاف جود و سخا ایثار و قربانی مہمان نوازی عدم تشدد شجاعت ایفائ عہد حسن معاملہ صبروقناعت نرم گفتاری خوش روئی ملنساری مساوات غمخواری سادگی و بے تکلفی تواضع وانکساری اور حیاداری کی اتنی بلند منزلوں پر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فائز و سرفراز ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ایک جملے میں اس کی صحیح تصویر کھینچتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’ کان خلقہ القرآن ‘‘ یعنی تعلیمات قرآن پر پورا پورا عمل یہی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اخلاق تھے۔( سیرت مصطفی ص۶۰۰) اورعلامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اخلاق تمام اخلاقی اچھائیوں کا جامع ہے اور اللہ تعالی نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا شکر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی خلت حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا اخلاص حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے وعدے کی سچائیحضرت یعقوب اور حضرت ایوب علیہما الصلوۃ والسلام کا صبر حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کا عذر حضرت سلیمان اور حضرت عیسی علیہما الصلوۃ والسلام کی عاجزی اور ان کے علاوہ تمام ابنیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے اخلاق عطا فرمائے اور یہ وہ مقام ہے جو تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں سے صرف سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو عطا ہوا ہے۔( روح البیان ن تحت الایۃ: ۴ ۱۰ / ۱۰۶) اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کیا خوب فرماتے ہیں : ترے خلق کو حق نے عظیم کہا تری خلق کو حق نے جمیل کیا کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا ترے خالق حسن وادا کی قسم علم اور عمل دونوں اعتبار سے کامل اور جامع شخصیت: یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہےاللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علم مبارک کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’و انزل الله علیك الكتب و الحكمة و علمك ما لم تكن تعلم-و كان فضل الله علیك عظیما‘‘(النساء:۱۱۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ نے اپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور اپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو اپ نہ جانتے تھے اور اپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔ اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عمل مبارک کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’و انك لعلى خلق عظیم‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم علم اور عمل دونوں اعتبار سے کامل اور جامع ہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اخلاق کریمہ سے متعلق ایک عظیم واقعہ: ویسے تواحادیث اور سیرت کی کتابوں میں سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اخلاق کریمہ کے بے شمار واقعات مذکور ہیں جنہیں اختصار کے ساتھ بھی یہاں بیان کرنا ممکن نہیں البتہ ہم ایک ایساواقعہ ذکر کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے تو بڑے سہی چھوٹے بچے تک بھی تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اخلاق کریمہ سے بہت متاثر تھے اور کسی صورت بھی اپ کے دامن اقدس سے جدائی انہیں برداشت نہ تھی۔چنانچہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ زمانہ جاہلیت میں اپنی والدہ کے ساتھ ننھیال جارہے تھے کہ بنو قین نے وہ قافلہ لوٹ لیا اور حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کو مکہ میں لاکر بیچ دیا۔ حکیم بن حزام نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے لئے ان کو خریدلیا۔ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہوا تو انہوں نے زید رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کر دیا۔ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کے والد کو ان کی جدائی کا بہت صدمہ تھا اور وہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کی جدائی میں اشعار پڑھتے اور روتے ہوئے ڈھونڈتے پھر اکرتے تھے۔ اتفاق سے ان کی قوم کے چند لوگوں کا حج کی غرض سے مکہ جانا ہوا تووہاں انہوں نے حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کو پہچان لیا اورجب وہ حج سے واپس گئے تو انہوں نے حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کی خیر و خبران کے باپ کو سنائی ۔حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کے باپ اور چچا فدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے کی خاطر مکہ مکرمہ میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا: اے ہاشم کی اولاد! اپنی قوم کے سردار! تم لوگ حرم کے رہنے والے ہو اور اللہ عزوجل کے گھر کے پڑوسی ہوتم خود قیدیوں کو رہا کراتے ہو بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہو۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں تمہارے پا س پہنچے ہیں ہم پر احسان فرماؤ اور کرم کرو۔ فدیہ قبول کرو اور اس کو رہا کردو بلکہ جو فدیہ ہو اس سے زیادہ لے لو۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بس اتنی سی بات ہے!عرض کیا حضور! بس یہی عرض ہے۔ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زیدکو بلا واور اس سے پوچھ لو اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو بغیر فدیہ ہی کے وہ تمہاری نذرہے اور اگر نہ جانا چاہے تو میں ایسے شخص پر جبر نہیں کرسکتا جو خود نہ جاناچاہے ۔چنانچہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ بلائے گئے اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تم ان کو پہچانتے ہو عرض کی:جی ہاں پہچانتا ہوں یہ میرے باپ ہیں اور یہ میرے چچا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میرا حال بھی تمہیں معلوم ہے۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ میرے پاس رہنا چاہو تو میرے پاس رہو ان کے ساتھ جانا چاہوتو اجازت ہے۔ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا :حضور!میں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مقابلے میں بھلا کس کو پسند کرسکتا ہوں اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میرے لئے باپ کی جگہ بھی ہیں اور چچا کی جگہ بھی ہیں ۔ ان دونوں باپ چچا نے کہا کہ زید! غلامی کو ازادی پر ترجیح دیتے ہوباپ چچا اور سب گھر والوں کے مقابلہ میں غلام رہنے کو پسند کرتے ہو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ہاں ! میں نے ان میں ایسی بات دیکھی ہے جس کے مقابلے میں کسی چیزکو بھی پسند نہیں کرسکتا۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جب یہ جواب سنا تو ان کو گودمیں لے لیا اور فرمایا کہ میں نے اس کو اپنا بیٹا بنا لیا۔حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کے باپ اور چچا بھی یہ منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور خوشی سے ان کو چھوڑ کرواپس چلے گئے۔( الاصابہ فی تمییز الصحابہ حرف الزای المنقوطۃ زید بن حارثۃ بن شراحیل الکعبی ۲ / ۴۹۵) اخلاق حسنہ کی تعلیم: حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اخلاق کریمہ کی عظمت و بزرگی کا ایک پہلو اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اپ نے اپنی امت کو بھی اخلاق حسنہ اپنانے کی تعلیم اور ترغیب دی ہے اس سے متعلق یہاں 4احادیث ملاحظہ ہوں چنانچہ (1)…حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمانوں میں سب سے زیادہ اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہیں ۔( مسند امام احمد مسند البصریین حدیث جابر بن سمرۃ ۷ / ۴۱۰ الحدیث: ۲۰۸۷۴) (2)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بندہ حسن اخلاق کی وجہ سے دن میں روزہ رکھنے اور رات میں قیام کرنے والوں کا درجہ پا لیتا ہے۔( معجم الاوسطباب المیم من اسمہ محمد ۴ / ۳۷۲ الحدیث: ۶۲۸۳) (3)…حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میزان عمل میں حسن اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ۔( ابو داود کتاب الادب باب فی حسن الخلق ۴ / ۳۳۲ الحدیث: ۴۷۹۹) (4)…حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےرسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا’’کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاوں جو قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میری مجلس کے قریب گا۔ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیوں نہیں ! ارشاد فرمایا’’یہ وہ شخص ہو گا جس کے اخلاق تم میں سب سے زیادہ اچھے ہوں گے ۔( مسند امام احمد مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص ۲ / ۶۷۹ الحدیث: ۷۰۵۶)