Surah Al Qalam Ayat 44 (68:44)
The Pen · Juz 29 · Makki
فَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِؕ-سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو عنقریب ہم انہیں آہستہ آہستہ وہاں سے لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی۔
Tafseer (Urdu)
{فذرنی و من یكذب بهذا الحدیث: تو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے کفار کو قیامت کے دن کی ہولناکی کا خوف دلایا اور اب انہیں ڈر سنانے میں اضافہ کرتے ہوئے اپنے عذاب سے ڈرایا اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب اخرت میں کفار کا حال یہ ہو گا تو جو اس قرآن مجید کو جھٹلاتا ہے اس کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دیں میں اسے سزا دوں گا اوراپ اس کے معاملے میں اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں ۔ قریب ہے کہ ہم کفار کو آہستہ آہستہ اپنے عذاب کی طرف وہاں سے لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہوگی کہ گناہوں اور نافرمانیوں کے باوجود انہیں صحت اور رزق سب کچھ ملتا رہے گا اور وہ اللہ تعالی کے رزق کو گناہوں میں زیادتی کا ذریعہ بنا لیں گے اور ہم انہیں استغفار اور توبہ کرنا بھلا دیں گے یوں رفتہ رفتہ عذاب ان کے قریب ہوتاجائے گا۔( تفسیر کبیر القلم تحت الایۃ : ۱۰ ۱۰ / ۶۱۵ مدارک القلم تحت الایۃ: ۴۴ ص۱۲۷۰ خازن ن تحت الایۃ: ۴۴ ۴ / ۳۰۱ ملتقطا) نافرمانیوں کے باوجود نعمتیں ملنا اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر بھی ہوسکتی ہے: اس سے معلوم ہوا کہ نافرمانیوں کے باوجود دنیا کی نعمتیں ملتی رہنا بلکہ ان میں مزید اضافہ ہونا اللہ تعالی کے فضل کی بجائے اس کی کوئی خفیہ تدبیر بھی ہو سکتی ہے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’فلما نسوا ما ذكروا به فتحنا علیهم ابواب كل شیء-حتى اذا فرحوا بما اوتوا اخذنهم بغتة فاذا هم مبلسون‘‘(انعام:۴۴) ترجمہکنزالعرفان: پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیاجو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیاپس اب وہ مایوس ہیں ۔ اورحضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم یہ دیکھو کہ بندے کے گناہوں پر قائم ہونے کے باوجود اللہ تعالی اسے ا س کی پسند کی دنیوی نعمتیں عطا کر رہا ہے تو(جان لو کہ )یہ اس کے حق میں اللہ تعالی کی طرف سے استدراج (یعنی خفیہ تدبیر) ہے۔( مسند امام احمدمسند الشامیینحدیث عقبۃ بن عامر الجہنی عن النبیصلی اللہ علیہ وسلم۶ / ۱۲۲الحدیث:۱۷۳۱۳) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ اسے جب بھی کوئی نعمت ملے تو ا س پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرے اور اگر اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو توبہ و استغفار کرنے میں دیر نہ کرے۔