Surah Al Qalam Ayat 45 (68:45)
The Pen · Juz 29 · Makki
وَ اُمْلِیْ لَهُمْؕ-اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور میں انہیں ڈھیل دوں گا بے شک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و املی لهم: اور میں انہیں ڈھیل دوں گا۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ میں ان کفار کو ان کی موت انے تک ڈھیل دوں گا ا س لئے انہیں جلد سزا نہیں دوں گا بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ میں ان کفار کو لمبی عمر عطا کر کے اور ان کی موت میں تاخیر کر کے انہیں ڈھیل دوں گا تاکہ وہ اور گناہ کر لیں لیکن وہ لوگ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کی عمر لمبی ہونا ان کے حق میں بہتر ہےبیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے۔( خازن ن تحت الایۃ: ۴۵ ۴ / ۳۰۱ روح البیان ن تحت الایۃ: ۴۵ ۱۰ / ۱۲۵ ملتقطا) کافروں کو لمبی عمر ملنے کی حقیقت اور مسلمانوں کے لئے نصیحت: کافروں کو لمبی عمر ملنے اور مہلت دئیے جانے کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و لا یحسبن الذین كفروا انما نملی لهم خیر لانفسهم-انما نملی لهم لیزدادوا اثما-و لهم عذاب مهین‘‘(ال عمران:۱۷۸) ترجمہکنزالعرفان: اور کافر ہرگز یہ گمان نہ رکھیں کہ ہم انہیں جومہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لئے بہتر ہے ہم توصرف اس لئے انہیں مہلت دے رہے ہیں کہ ان کے گناہ اور زیادہ ہوجائیں اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’و الذین كذبوا بایتنا سنستدرجهم من حیث لا یعلمون(۱۸۲) و املی لهم-ان كیدی متین‘‘(اعراف:۱۸۲۔۱۸۳) ترجمہکنزالعرفان: اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو عنقریب ہم انہیں آہستہ آہستہ (عذاب کی طرف) لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ اور میں انہیں ڈھیل دوں گا بیشک میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔ اور ارشاد فرماتا ہے : ’’قل هل ننبئكم بالاخسرین اعمالا(۱۰۳) الذین ضل سعیهم فی الحیوة الدنیا و هم یحسبون انهم یحسنون صنعا ‘‘(کہف:۱۰۳۱۰۴) ترجمہکنزالعرفان: تم فرماؤ: کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی حالانکہ وہ یہ گمان کررہے ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں ۔ ان ایات کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے ڈرتا رہے گناہوں پر اللہ تعالی کی گرفت اپنے نیک اعمال ضائع ہو جانے اور برا خاتمہ ہونے پر خوفزدہ رہے۔اللہ تعالی اپنی خفیہ تدبیر سے متعلق ارشاد فرتا ہے: ’’افامن اهل القرى ان یاتیهم باسنا بیاتا و هم نآىمون(۹۷) او امن اهل القرى ان یاتیهم باسنا ضحى و هم یلعبون(۹۸)افامنوا مكر الله-فلا یامن مكر الله الا القوم الخسرون‘‘(اعراف:۹۷۔۹۹) ترجمہکنزالعرفان: کیا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سورہے ہوں ۔ یا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن کے وقت آجائے جب وہ کھیل میں پڑے ہوئے ہوں ۔ کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں ۔ اورحضرت بلال بن سعید رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’اے لوگو!اللہ تعالی سے حیاء کیاکرواللہ تعالی سے ڈرتے رہا کرواللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہ ہو جاو اور اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاو۔( شعب الایمان الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۱ / ۴۸۰ الحدیث: ۷۷۰) اورامام بیہقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’بندے کو اللہ تعالی سے اس قدر خوفزدہ نہیں ہو جانا چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی رحمت سے ہی مایوس ہو جائے اور بندے کو اللہ تعالی سے اتنی امید بھی نہیں لگا لینی چاہئے کہ وہ اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے ہی بے خوف ہو جائے یا اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے پر بے باک ہو جائے۔( شعب الایمان الثانی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۲ / ۲۲ تحت الحدیث: ۱۰۵۸) صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم جیسے عظیم حضرات اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے بہت خوف زدہ رہا کرتے تھے چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’میں نے ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو سنا کہ وہ اپنے اپ کو مخا طب کر کے فرما رہے تھے:’’واہ واہ! (اے) عمر بن خطاب (تو) مسلمانوں کا امیر (بن چکا) ہے۔ خدا کی قسم !تم اللہ تعالی سے ڈرتے رہو ورنہ وہ تمہیں اپنے عذاب میں مبتلا کر دے گا۔( موطا امام مالک کتاب الکلام باب ما جاء فی التقی ۲ / ۴۶۹ الحدیث: ۱۹۱۸) جب بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جنت کا پروانہ حاصل کر لینے والے قطعی جنتی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کے معاملے میں یہ حال ہے تو ہم جیسے لوگوں کو خود ہی غور کر لینا چاہئے کہ ہمیں اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے کس قدر ڈرنا چاہئے۔حضرت بشر حافی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے تھے: ’’ہم نے لوگوں کو ا س طرح پایا کہ ان کے اچھے اعمال پہاڑوں کی طرح ہیں لیکن ا س کے باوجود وہ دھوکے میں نہیں ہیں اور تم لوگوں کے پاس کوئی عمل نہیں اور تم دھوکے میں مبتلا ہواللہ کی قسم!ہماری باتیں زاہدوں کی باتوں جیسی ہیں اور ہمارے اعمال متکبرین اور منافقین کے اعمال جیسے ہیں ۔( تنبیہ المغترین الباب الاول ومن اخلاقہم رضی اللہ عنہم کثرۃ خوفہم من اللہ تعالی فی حال بدایتہم۔۔۔ الخ ص۴۹) اللہ تعالی ہمیں اپنی خفیہ تدبیر سے ہر دم خوف زدہ رہنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔