Surah Al Haqqah Ayat 25 (69:25)
The Reality · Juz 29 · Makki
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ﳔ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْ 25
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاوررہا وہ جسے اس کانامہ اعمال ا س کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جو اپنے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نَوِشْتَہ نہ دیا جاتا۔
Tafseer (Urdu)
{و اما من اوتی كتبه بشماله: اور رہا وہ جسے اس کانامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔} سعادت مندوں کا حال بیان کرنے کے بعد اب بد بختوں کا حال بیان کیاجا رہا ہے چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی چار ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جس کانامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ جب اپنے نامہ اعمال کو دیکھے گا اور اس میں اپنے برے اعمال لکھے ہوئے پائے گا تو شرمندہ و رسوا ہو کر کہے گا: اے کاش کہ مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ اے کاش کہ دنیا کی موت ہی ہمیشہ کیلئے میری زندگی ختم کردیتی اور مجھے حساب کیلئے نہ اٹھایا جاتا اور اپنا اعمال نامہ پڑھتے وقت مجھے یہ ذلت و رسوائی پیش نہ آتی ۔ میرا وہ مال جو میں نے دنیا میں جمع کیا تھامیرے کچھ کام نہ آیا اور وہ ذراسا بھی میرا عذاب ٹال نہ سکا ۔میرا سب زور جاتا رہا اور میں ذلیل و محتاج ہو کر رہ گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے اس کی مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جو حجتیں میں کیا کرتا تھا وہ سب باطل ہوگئیں ۔( صاوی الحاقۃ تحت الایۃ : ۲۵-۲۹ ۶ / ۲۲۲۹ خازن الحاقۃ تحت الایۃ: ۲۵-۲۹ ۴ / ۳۰۵ مدارک الحاقۃ تحت الایۃ: ۲۵-۲۹ ص۱۲۷۵ ملتقطا)