Surah Al Araf Ayat 105 (7:105)
The Heights · Juz 9 · Makki
حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّؕ-قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَﭤ 105
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariمیری شان کے لائق یہی ہے کہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا کچھ نہ کہوں ۔ بیشک میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کرآیا ہوں تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں تو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔
Tafseer (Urdu)
{ حقیق:میری شان کے لائق یہی ہے ۔} حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام سن کر فرعون نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو اس پر اپ نے ارشاد فرمایا : ’’میری شان کے لائق یہی ہے کہ اللہ عزوجل کے بارے میں سچ کے سوا کچھ نہ کہوں کیونکہ رسول کی یہی شان ہے کہ وہ کبھی غلط بات نہیں کہتے۔ (مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۵ ص۳۷۸)اور میں تمہارے پاس تمہارے رب عزوجل کی طرف سے نشانیاں یعنی معجزات لے کرآیا ہوں۔ { فارسل معی بنی اسرآءیل:تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے۔} جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اپنی رسالت کی تبلیغ سے فارغ ہوئے تو چونکہ اپ کا رسول ہونا ثابت ہو چکا تھا اور فرعون پر اپ کی اطاعت فرض ہو گئی تھی اس لئے اپ نے فرعون کوحکم فرمایا: ’’ تو بنی اسرائیل کواپنی غلامی سے ازاد کردے تاکہ وہ میرے ساتھ ارض مقدسہ میں چلے جائیں جو ان کا وطن ہے۔ بنی اسرائیل کی غلامی کا سبب یہ ہو اتھا کہ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے اپنے وطن فلسطین سے ہجرت کر کے مصر میں اباد ہو گئی مصر میں ان کی نسل کافی بڑھی جب فرعون کی حکومت ائی تو اس نے انہیں اپنا غلام بنا لیا اور ان سے جبری مشقت لینا شروع کر دی ۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں ا س غلامی سے نجات دلانا چاہی اور فرعون سے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے تاکہ یہ اپنے ابائی وطن میں اباد ہوں۔ (صاوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۵ ۲ / ۶۹۷)