Surah Al Araf Ayat 106 (7:106)
The Heights · Juz 9 · Makki
قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ 106
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکہا:اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو اگرتم سچے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولا اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ اگر سچے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{ قال ان كنت جئت بایة فات بها: کہا:اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو۔}اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی رسالت کی تبلیغ مکمل فرمائی تو فرعون نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا: اگراپ کے پاس اپنی صداقت کی کوئی نشانی ہے تومیرے سامنے اسے ظاہر کریں تاکہ پتا چل جائے کہ اپ اپنے دعوے میں سچے ہیں یا نہیں تو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا عصا زمین پرڈال دیا وہ فورا ایک ظاہر اژدہا بن گیا۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۶-۱۰۷ ۲ / ۱۲۴) عصائے کلیم اژدہائے غضب: تفسیر صاوی میں ہے ’’جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے لاٹھی پھینکی تو وہ زرد رنگ کا ایک بال دار اژدہا بن گئی اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان تقریبا ایک سو بیس فٹ کا فاصلہ تھا وہ اپنی دم پر کھڑا ہو گیا اس کا ایک جبڑا زمین پر تھاا ور دوسرا جبڑا فرعون کے محل کی دیوار پر تھا وہ اژدہا فرعون کو پکڑنے کے لئے دوڑا تو فرعون اپنا تخت چھوڑ کربھاگ گیا۔( صاوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۷ ۲ / ۶۹۷)