Surah Al Araf Ayat 175 (7:175)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ 175
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے محبوب! انہیں اس آدمی کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات عطا فرمائیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا تووہ آدمی گمراہوں میں سے ہوگیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے محبوب انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا۔
Tafseer (Urdu)
{و اتل علیهم نبا الذی اتینه ایتنا:اور اے محبوب!انہیں اس ادمی کا حال سناؤ جسے ہم نے اپنی ایات عطا فرمائیں۔} شان نزول: حضرت عبد اللہ بن عباس عبد اللہ بن مسعود اور امام مجاہد رضی اللہ تعالی عنہم فرماتے ہیں ’’یہ ایت بلعم بن باعوراء کے بارے میں نازل ہوئی۔ (تفسیرکبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۷۵ ۵ / ۴۰۳) حضر ت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں یہ ایت امیہ بن ابو صلت کے بارے میں نازل ہوئی۔( سنن الکبری للنسائی کتاب التفسیر سورۃ الاعراف ۶ / ۳۴۸ الحدیث: ۱۱۱۹۴) حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں یہ ایت ابو عامر بن صیفی کے بارے میں نازل ہوئی۔ (تفسیر قرطبی الاعراف تحت الایۃ: ۱۷۵ ۴ / ۲۲۹ الجزء السابع) بلعم بن باعوراء کا واقعہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جبارین سے جنگ کا ارادہ کیا اور سرزمین شام میں نزول فرمایا تو بلعم بن باعوراء کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی کہ’’ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام بہت تیز مزاج ہیں اور ان کے ساتھ بہت بڑا لشکر ہے وہ یہاں ا س لئے آئے ہیں تاکہ ہم سے جنگ کریں اور ہمیں ہمارے شہروں سے نکال کر ہماری بجائے بنی اسرائیل کو اس سرزمین میں آباد کریں تیرے پاس اسم اعظم ہے اور تم ایسے شخص ہو کہ تمہاری ہر دعا قبول ہوتی ہے تم نکلو اور اللہ تعالی سے دعا کرو کہ وہ انہیں یہاں سے بھگا دے ۔قوم کی بات سن کربلعم نے کہا :افسوس ہے تم پر! حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالی کے نبی ہیں ان کے ساتھ فرشتے اور ا یمان دار لوگ ہیں اس لئے میں ان کے خلاف کیسے بد دعا کر سکتا ہوں ! مجھے اللہ تعالی کی طرف سے جو علم ملا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر میں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف ایسا کیا تو میری دنیا و آخرت برباد ہوجائے گی ۔ قوم نے جب گریہ و زاری کے ساتھ مسلسل اصرار کیا تو بلعم نے کہا :اچھا! میں پہلے اپنے رب کی مرضی معلوم کرلوں۔ بلعم کا یہی طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی دعا کرتا توپہلے مرضی الہی معلوم کرلیتا اور خواب میں اس کا جواب مل جاتا چنانچہ اس مرتبہ اس کو یہ جواب ملا کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے ساتھیوں کے خلاف دعا نہ کرنا۔ چنانچہ اس نے قوم سے کہہ دیا کہ ’’میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی تھی مگر میرے رب نے ان کے خلاف بد دعا کرنے کی ممانعت فرما دی ہے۔ پھراس کی قوم نے اسے ہدیئے اور نذرانے دیئے جنہیں اس نے قبول کر لیا ۔اس کے بعد قوم نے دوبارہ اس سے بددعا کرنے کی درخواست کی تو دوسری مرتبہ بلعم نے رب تبارک وتعالی سے اجازت چاہی۔ اب کی بار اس کا کچھ جواب نہ ملا تو اس نے قوم سے کہہ دیا کہ’’ مجھے اس مرتبہ کچھ جواب ہی نہیں ملا۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ ’’اگر اللہ تعالی کو منظور نہ ہوتا تو وہ پہلے کی طرح دوبارہ بھی صاف منع فرما دیتا پھر قوم نے اور بھی زیادہ اصرار کیا حتی کہ وہ ان کی باتوں میں ا گیا۔ چنانچہ بلعم بن باعوراء اپنی گدھی پر سوار ہو کر ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہوا۔ گدھی نے اسے کئی مرتبہ گرایا اور وہ پھر سوار ہو جاتا حتی کہ اللہ عزوجل کے حکم سے گدھی نے اس سے کلام کیا اور کہا: افسوس! اے بلعم! کہاں جا رہے ہو کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ فرشتے مجھے جانے سے روک رہے ہیں۔ (شرم کرو) کیا تم اللہ تعالی کے نبی اور فرشتوں کے خلاف بد دعا کرنے جا رہے ہوبلعم پھر بھی باز نہ ایا اور آخر کار وہ بددعا کرنے کے لئے اپنی قوم کے ساتھ پہاڑ پر چڑھا۔ اب بلعم جو بددعا کرتا اللہ تعالی اس کی زبان کو اس کی قوم کی طرف پھیر دیتا تھا اور اپنی قوم کے لئے جو دعائے خیر کرتا تھا توبجائے قوم کے بنی اسرائیل کا نام اس کی زبان پر آتا تھا۔ یہ دیکھ کراس کی قوم نے کہا: اے بلعم!تو یہ کیا کررہا ہے بنی اسرائیل کیلئے دعا اور ہمارے لئے بددعا کیو ں کر رہا ہے بلعم نے کہا:’’ یہ میرے اختیار کی بات نہیں میری زبان میرے قبضہ میں نہیں ہے اللہ تعالی کی قدرت مجھ پر غالب ا گئی ہے۔ اتنا کہنے کے بعد اس کی زبان نکل کر اس کے سینے پر لٹک گئی ۔ اس نے اپنی قوم سے کہا :میری تو دنیا و آخرت دونوں برباد ہوگئیں اب میں تمہیں ان کے خلاف ایک تدبیر بتاتا ہوں ’’تم حسین و جمیل عورتوں کو بنا سنوار کر ان کے لشکر میں بھیج دو اگر ان میں سے ایک شخص نے بھی بدکاری کر لی تو تمہارا کام بن جائے گا کیونکہ جو قوم زنا کرے اللہ تعالی اس پر سخت ناراض ہوتا ہے اور اسے کامیاب نہیں ہونے دیتا چنانچہ بلعم کی قوم نے اسی طرح کیا جب عورتیں بن سنور کر لشکر میں پہنچیں تو ایک کنعانی عورت بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پا س سے گزری تو وہ اپنے حسن و جمال کی وجہ سے اسے پسند ا گئی۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے منع کرنے کے باوجود اس سردار نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کی اس کی پاداش میں اسی وقت بنی اسرائیل پر طاعون مسلط کر دیا گیا۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا مشیر اس وقت وہاں موجود نہ تھا جب وہ ایا تو اس نے بدکاری کا قصہ معلوم ہونے کے بعد مردوعورت دونوں کو قتل کر دیا۔ تب طاعون کا عذاب ان سے اٹھا لیا گیا لیکن اس دوران ستر ہزار اسرائیلی طاعون سے ہلاک ہو چکے تھے۔اس آیت میں اس کا بیان ہے۔ (بغوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۷۵ ۲ / ۱۷۹-۱۸۰)