Surah Al Ma'arij Ayat 10 (70:10)
The Ascending Stairways · Juz 29 · Makki
وَ لَا یَسْــٴَـلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاﭕ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کوئی دوست کسی دوست سے حال نہ پوچھے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کوئی دوست کسی دوست کی بات نہ پوچھے گا۔
Tafseer (Urdu)
{ و لا یســٴـل حمیم حمیما : اور کوئی دوست کسی دوست سے حال نہ پوچھے گا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی 4ایات کاخلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کی شدت اور ہولناکی کی وجہ سے یہ حال ہو گا کہ کوئی دوست کسی دوست سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تیرا حال کیا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بات کرے گا کیونکہ اسے تو صرف اپنی ہی جان کی فکر پڑی ہوگی اور یہ اس وجہ سے نہیں ہو گا کہ دوست ایک دوسرے کو دیکھ نہ رہے ہوں گے بلکہ وہ دوست ان دوسرے دوستوں کو دکھائے جارہے ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کو پہچانیں گے لیکن اپنے حال میں ایسے مبتلا ہوں گے کہ نہ ان سے حال پوچھیں گے اورنہ بات کرسکیں گے۔اس دن کافرکا حال یہ ہو گا کہ وہ یہ آرزو کرے گا : کاش!قیامت کے دن کے عذاب سے چھوٹنے کے بدلے میں مجھ سے میرے (محبوب ترین) بیٹے لے لئے جائیں اور (زندگی بھر) میرا ساتھ نبھانے والی بیوی لے لی جائے اور دنیا میں (ہر طرح سے) میری مدد کرنے والے میرے بھائی لے لئے جائیں اور میرا وہ کنبہ لے لیا جائے جو مجھے اپنے پاس جگہ دیتا تھاحتی کہ وہ یہ تمنا کرے گا کہ جتنے لوگ زمین میں ہیں سب اس کے ماتحت ہوں اور وہ ان سب کوفدیے میں دیدیے اورپھر یہ بدلہ دینا اسے اللہ تعالی کے عذاب سے بچالے۔( خازن المعارج تحت الایۃ : ۱۰ - ۱۴ ۴ / ۳۰۸-۳۰۹ روح البیان المعارج تحت الایۃ: ۱۰-۱۴ ۱۰ / ۱۶۰ مدارک المعارج تحت الایۃ: ۱۰-۱۴ ص۱۲۷۹ ملتقطا) اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کفار کو اپنے کسی عزیزسے محبت نہ رہے گی اور وہ یہ چاہے گا کہ میرے بچےبیویبھائیخاندان کے لوگ بلکہ ساری دنیا کے لوگ میرے بدلے دوزخ میں پھینک دئیے جائیں اور میں کسی طرح عذاب سے بچ جاوں ۔