Surah Al Ma'arij Ayat 3 (70:3)
The Ascending Stairways · Juz 29 · Makki
مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِﭤ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ کی طرف سے ہوگا جو بلندیوں کا مالک ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ ہوگا اللہ کی طرف سے جو بلندیوں کا مالک ہے۔
Tafseer (Urdu)
{من اللہ: اللہ کی طرف سے۔} یعنی کافروں پروہ عذاب ا س اللہ تعالی کی طرف سے واقع ہو گا جو ساتوں اسمانوں کا مالک ہے۔( تفسیر سمرقندی المعارج تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۴۰۲) { تعرج الملىكة و الروح الیه: فرشتے اور جبریل اس کی بارگاہ کی طرف چڑھتے ہیں ۔} یعنی فرشتے اور حضرت جبریل علیہ السلام قرب کے اس مقام کی طرف چڑھتے ہیں جو آسمان میں اللہ تعالی کے احکامات نازل ہونے کی جگہ ہے اور عالم میں تصرف کرنے والے فرشتے وہاں سے احکامات وصول کرتے ہیں ۔یہاں حضرت جبریل علیہ السلام کے شرف اور اعلی مقام کی وجہ سے بطور خاص ان کاذکر کیا گیا اگرچہ وہ جملہ فرشتوں میں داخل ہیں ۔( خازن المعارج تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۳۰۸ جمل المعارج تحت الایۃ: ۴ ۸ / ۱۰۷ ملتقطا) {فی یوم: (وہ عذاب) اس دن میں ہوگا۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ اگر فرشتوں کے علاوہ کوئی انسان ساتویں زمین کے نیچے سے اس مقام تک چڑھے جہاں سے اللہ تعالی کے احکامات نازل ہوتے ہیں تو وہ پچاس ہزار سال سے پہلے وہاں تک نہیں پہنچ سکتا جبکہ فرشتہ ایک لمحے میں یہ فاصلہ طے کر لیتا ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ کفار پر وہ عذاب قیامت کے دن ہو گاجس کی مقدار دنیوی سالوں کے حساب سے پچاس ہزار سال ہے۔( خازن المعارج تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۳۰۸ جلالین المعارج تحت الایۃ: ۴ ص۴۷۳ ملتقطا) نوٹ: یاد رہے کہ قیامت کی سختیوں کی وجہ سے بعض کفار کو وہ دن پچاس ہزار سال کے برابر لگے گا جیساکہ یہاں بیان ہوا اور بعض کو دوسرے اعتبار سے ایک ہزار سال کے برابر لگے گا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ فی یوم كان مقداره الف سنة مما تعدون ‘‘(السجدہ:۵) ترجمہ کنزالعرفان: اس دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی سے ہزار سال ہے۔ جبکہ مومن کیلئے وہ دن دنیا میں ادا کی جانے والی ایک فرض نماز سے بھی کم ہوگا جیساکہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!قیامت کا دن مومن پر ہلکا ہو گا حتی کہ ا س فرض نماز سے بھی زیادہ ہلکا ہو گا جو مومن دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔( مسند امام احمد مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ ۴ / ۱۵۱ الحدیث: ۱۱۷۱۷)