Surah Al Jin Ayat 24 (72:24)
The Jinn · Juz 29 · Makki
حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہاں تک کہ جب وہ اسے دیکھیں گے جس کی انہیں وعید سنائی جاتی تھی توجلدجان جائیں گے کہ کس کا مددگار کمزور ہے اور کس کی تعدادکم ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو وعدہ دیا جاتا ہے تو اب جان جائیں گے کہ کس کا مددگار کمزور اور کس کی گنتی کم۔
Tafseer (Urdu)
{حتى اذا راوا ما یوعدون: یہاں تک کہ جب وہ اسے دیکھیں گے جس کی انہیں وعید سنائی جاتی تھی۔} یعنی وہ اپنے کفر پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ جب (قیامت کے دن) اس عذاب کو دیکھیں گے جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے تواس وقت جان جائیں گے کہ کافر کے مددگار کمزور ہیں نیز یہ کہ ان کے مددگاروں کی تعدادکم ہے یا مومن کے مراد یہ ہے کہ اس دن کافر کا کوئی مددگار نہ ہوگا اور مومن کی مدد اللہ تعالی اور اس کے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور فرشتے سب فرمائیں گے۔ (مدارک الجن تحت الایۃ: ۲۴ ص۱۲۹۰) قیامت کے دن کافروں اور مسلمانوں کا حال: قیامت کے دن کفار کا کوئی مددگار ہونے اور کسی کی طرف سے ان کی شفاعت نہ کئے جانے کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ما للظلمین من حمیم و لا شفیع یطاع‘‘(مومن:۱۸) ترجمہ کنزالعرفان: ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے۔ اوراس دن ایمان والوں کو ملنے والی عزت کرامت اور کثرت بیان کرتے ہوئے ارشادفرماتا ہے: ’’جنت عدن یدخلونها و من صلح من ابآىهم و ازواجهم و ذریتهم و الملىكة یدخلون علیهم من كل باب(۲۳) سلم علیكم بما صبرتم فنعم عقبى الدار‘‘(رعد:۲۳۲۴) ترجمہ کنزالعرفان: وہ ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں ان میںوہ لوگ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیویوں اور اولاد میں سے جو لائق ہوں گے اور ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس یہ کہتے آئیں گے۔ تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو اخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ان اصحب الجنة الیوم فی شغل فكهون(۵۵) هم و ازواجهم فی ظلل على الارآىك متكــٴـون (۵۶)لهم فیها فاكهة و لهم ما یدعون(۵۷) سلم- قولا من رب رحیم‘‘(یس:۵۵۔۵۸) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک جنت والے آج دل بہلانے والے کاموں میں لطف اندوز (ہو رہے) ہوں گے۔ وہ اور ان کی بیویاں تختوں پر تکیہ لگائے سایوں میں ہوں گے۔ ان کے لیے جنت میں پھل میوہ ہوگا اور ان کے لیے ہر وہ چیز ہوگی جووہ مانگیں گے۔ مہربان رب کی طرف سے فرمایا ہوا سلام ہوگا۔