Surah Al Qiyamah Ayat 16 (75:16)
The Resurrection · Juz 29 · Makki
لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖﭤ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔
Tafseer (Urdu)
{لا تحرك به لسانك لتعجل به: تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو۔} شان نزول:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’جب حضرت جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس وحی لے کر اتے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حضرت جبریل علیہ السلام کے (پڑھنے کے) ساتھ اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیاکرتے تھے اور اس سے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تکلیف ہوتی جو کہ دوسروں کو بھی معلوم ہو جاتی تھی (اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی یہ مشقت گوارا نہ فرمائی اور) سورہ قیامہ میں یہ ایات نازل فرمائیں : ’’لا تحرك به لسانك لتعجل به(۱۶) ان علینا جمعه و قرانه(۱۷) فاذا قرانه فاتبـع قرانه(۱۸) ثم ان علینا بیانه‘‘ یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں بیشک اس کواپ کے سینہ پاک میں محفوظ کر دینا اور اپ کی زبان پراس کا پڑھنا جاری کردیناہمارے ذمہ ہے لہذا جب ہماری جانب سے پڑھا جا چکے تواس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرواور جب ہماری طرف سے کچھ نازل ہو تو اسے غور سے سنیں پھر اس کو بیان کرنا ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے اپ کی زبان سے بیان کرا دیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ’’اس کے بعد جب حضرت جبریل علیہ السلام اتے تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنا سر انور جھکا لیتے اور جب وہ (وحی نازل کر کے) چلے جاتے تو حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اسی طرح پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالی نے اپ کو حکم دیا۔( بخاری کتاب تفسیر القران سورۃ المدثر باب قولہ: فاذا قراناہ فاتبع قرانہ ۳ / ۳۶۹ الحدیث: ۴۹۲۹)