Surah Al Qiyamah Ayat 17 (75:17)
The Resurrection · Juz 29 · Makki
اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗﭕ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمّہ ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان علینا جمعه و قرانه: بیشک اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔} اس ایت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں (1)… درحقیقت قران کو جمع فرمانے والا اللہ تعالی ہے کہ اس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سینہ مبارک میں قران کریم کو ترتیب وار جمع فرمایا۔ (2)… حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے قران کے حافظ قاری عالم اور صاحب اسرار ہیں کسی مخلوق کے شاگرد نہیں ۔ (3)… حضرت جبریل علیہ السلام اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے درمیان پیغام رساں ہیں نہ کہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے استاد ہیں ۔ {فاذا قرانه: تو جب ہم اسے پڑھ لیں ۔} اس ایت میں اللہ تعالی کا حضرت جبریل علیہ السلام کے پڑھنے کو اپنی طرف منسوب کرنا ان کی عظمت و شرافت کی دلیل ہے اور اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کئی کام بھی اپنی طرف منسوب کئے ہیں جیسا کہ بیعت عقبہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے 70 انصاری صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے میں خریدے اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ان الله اشترى من المؤمنین انفسهم و اموالهم بان لهم الجنة‘‘(توبہ:۱۱۱) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لئے کہ ان کے لیے جنت ہے۔ اور بیعت رضوان کے موقع پر حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے بیعت لی اور ان کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھا اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ان الذین یبایعونك انما یبایعون الله-ید الله فوق ایدیهم ‘‘(فتح:۱۰) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک جولوگ تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اورجنگ بدر میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کفار کی طرف کنکریاں پھینکی اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’و ما رمیت اذ رمیت و لكن الله رمى‘‘(انفال:۱۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور اے حبیب!جب اپ نے خاک پھینکی تو اپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔ {ثم ان علینا بیانه: پھر بیشک اسے بیان فرمانا ہمارے ذمہ ہے۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قران کے معانی اور احکام میں سے جس چیز کو سمجھنا ا پ کو مشکل لگے تو اسے بیان کرنا اور اس کی باریکیوں کو ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے۔( روح البیانالقیامۃ تحت الایۃ: ۱۹۱۰ / ۲۴۸) ایت ’’ثم ان علینا بیانه ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے3 مسئلے معلوم ہوئے: (1)… قران کا بیان قران نازل ہونے سے کچھ دیر بعد بھی ہوسکتا ہے۔ (2)… حضرت جبریل علیہ السلام صرف قران کے الفاظ لاتے تھے اور قران کے معانی اس کے احکام اور اسرار بلاواسطہ اللہ تعالی کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو عطا ہوتے تھے۔ (3) …حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بلا واسطہ اللہ تعالی سے سیکھنے والے ہیں لہذا دنیا میں کوئی اپ جیسا عالم نہیں ہوسکتا کیونکہ سب لوگ مخلوق سے علم حاصل کرتے ہیں جبکہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خالق سے علم حاصل کیا۔